مضامین بشیر (جلد 3) — Page 617
مضامین بشیر جلد سوم رحمت کا ظہور ہوتا ہے 617 چنانچہ ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کی دو نمایاں مثالیں نظر آتی ہیں۔ایک غزوہ احد میں جب کہ مسلمانوں کو فتح ہوتے ہوتے بظاہر شکست اور ہزیمت کا منہ دیکھنا پڑا اور خودسرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم بُری طرح زخمی ہو گئے اور دوسرے غزوہ خندق میں جب کفار عرب کے مختلف قبائل اکٹھے ہو کر مدینہ پر حملہ آور ہوئے اور مسلمانوں پر عرصہ عافیت تنگ ہو گیا۔اور جیسا کہ قرآن نے بیان کیا ہے ان کے کلیجے منہ کو آنے لگے۔مگر ان دونوں موقعوں کے بعد خدا کی یہ پیاری قوم ان عظیم الشان زلزلوں کے بعد اس طرح کو دکر اٹھی کہ جس طرح ایک ربڑ کا گیند زمین پر زور کے ساتھ مارے جانے کے بعد بڑی شدت کے ساتھ اچھل کر اٹھتا ہے۔یہی نظارہ ہر مامور من اللہ کے زمانہ میں نظر آتا ہے کہ ان کی ہر مصیبت ان کے لئے رحمت کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی کی موجودہ بیماری بھی جماعت میں غیر معمولی بیداری اور غیر معمولی توجہ الی اللہ کا موجب بن رہی ہے۔الفضل میں جو رپورٹیں چھپ رہی ہیں یا جو خطوط اس تعلق میں مجھے یا دوسرے مرکزی دوستوں کو موصول ہورہے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ حضور کی اس بیماری کی وجہ سے جماعت کو دعاؤں اور صدقات اور نوافل کی طرف بہت زیادہ توجہ پیدا ہوگئی ہے۔اور صحابی اور غیر صحابی، بوڑھے اور جوان، مردمستورات بلکہ بچوں تک میں ایک خوش کن روحانی حرکت کے آثار نمایاں ہیں۔مثال کے طور پر مجھے راولپنڈی کی جماعت اور منٹگمری کی جماعتوں نے اطلاع دی ہے کہ حضور کی موجودہ بیماری میں نمازیوں کی حاضری اتنی بڑھ گئی ہے کہ بعض اوقات احمد یہ مساجد میں جگہ نہیں ملتی۔راولپنڈی کے ایک دوست رشدی صاحب نے جو خدام الاحمدیہ کے رکن ہیں لکھا ہے کہ جہاں ہم احمدی نو جوانوں کو بار بار تحریک کر کے مسجد کی طرف بلاتے تھے اور پھر بھی ان میں سے کئی اپنی ملازمتوں یا کاروبار کی وجہ سے مستی کر جاتے تھے وہاں اب یہ حال ہے کہ مساجد میں اتنا ہجوم ہوتا ہے کہ جگہ نہیں ملتی۔یہی رپورٹ منٹگمری کے امیر چوہدری محمد شریف صاحب نے دی ہے کہ شروع میں صرف ایک دفعہ تحریک کرنے پر ہر بوڑھا اور جوان اور ہر مرد اور عورت بلکہ بچے تک مسجد کی طرف امڈے چلے آتے ہیں۔اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی صحت کی رپورٹ سننے اور دعاؤں میں حصہ لینے کے لئے بے چین نظر آتے ہیں۔اور یہی حال اکثر دوسری جماعتوں کا ہے۔یقینا یہ وہی کیفیت ہے جسے مولانا رومی نے اس شعر میں بیان کیا ہے کہ: ہر بلا کیں قوم را حق داده اند زیر آن گنج کرم بنهاده اند