مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 618 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 618

مضامین بشیر جلد سوم 618 یہ حرکت ایک طرف تو جماعت کی روحانی زندگی کی دلیل ہے اور دوسری طرف وہ خدا کی غیر معمولی نصرت اور رحمت پر شاہد ہے۔انسان کمزور ہے وہ ہر حال میں ایک جیسی حالت پر قائم نہیں رہتا۔لیکن اگر وہ ہلائے جانے پر بیدار ہو جائے اور اپنی نیند چھوڑ دے تو یہ بھی خدا کی ایک بڑی رحمت ہے۔مگر کاش کہ وہ ہر حال میں جاگنا اور ہر حال میں چوکس رہنا سیکھ لے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے کہ: کہتے ہیں جوشِ الفت یکساں نہیں ہے رہتا دل پر مرے پیارے ہر دم گھٹا یہی ہے (محررہ 27 مئی 1959ء) روزنامه الفضل ربوہ 30 مئی 1959ء) میاں خدا بخش صاحب درویش فوت ہو گئے قادیان سے مولوی عبدالرحمن صاحب امیر جماعت احمدیہ کی تار موصول ہوئی ہے کہ میاں خدا بخش صاحب در ولیش ( جو کچھ عرصہ سے بیمار تھے فوت ہو گئے ہیں۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔مرحوم موضع طغل والا نز دقادیان کے رہنے والے تھے اور بہت مخلص اور پابند صوم وصلوۃ تھے۔انہوں نے قلی کے طور پر محنت مزدوری کر کے قریباً ڈیڑھ ہزار روپیہ جمع کیا جس سے حج ادا کرنے کا ارادہ تھا مگر بعض روکوں کی وجہ سے حج نہیں کر سکے اور یہ سارا رو پید اعانت سلسلہ میں دے دیا۔مرحوم نماز با جماعت کے بہت پابند تھے اور ہمیشہ اول وقت پر مسجد میں آنے کی کوشش کیا کرتے تھے اور نوافل کا بھی بہت شوق تھا۔غالبا صرف قرآن مجید ناظرہ پڑھ سکتے تھے مگر بڑی نیکی اور اخلاص سے زندگی گزاری اور قادیان میں دھونی رما کر بیٹھے رہے اور بالآخر اسی درویشی کی حالت میں ہی وفات پائی اور مقبرہ بہشتی قادیان میں دفن ہوئے۔اللہ تعالیٰ غریق رحمت کرے۔تعارف کے خیال سے لکھا جاتا ہے کہ بعض اوقات انہیں بچے استاد بھنڈی کہہ کر پکارتے تھے۔اس میں شبہ نہیں کہ وہ ناخواندہ اور دیہاتی ہونے کے باوجود دین کے رستہ میں اکثر نو جوانوں کے لئے استاد کے حکم میں تھے۔روزنامه الفضل ربوہ 30 مئی 1959ء)