مضامین بشیر (جلد 3) — Page 538
مضامین بشیر جلد سوم 538 بزرگ تھے۔ان کی بیعت 1900 ء یا 1901ء کی ہے۔ان کو دو زمانوں میں سلسلہ کی خاص خدمت کا موقع میسر آیا۔اولاً جماعت احمد یہ شملہ کے صدر اور امیر کی حیثیت میں جبکہ انہوں نے شملہ کی جماعت کو غیر معمولی حسنِ تدبیر کے ساتھ سنبھالا اور 1914ء کے فتنہ خلافت کے ایام میں خصوصیت کے ساتھ قابل قدر خدمات سرانجام دیں اور جماعت کے کثیر حصہ کو لغزش سے بچالیا۔شملہ کی جماعت میں ان کی صدارت اور امارت کا زمانہ اپنے نتائج کے لحاظ سے بڑا امتیاز رکھتا ہے۔اس کے بعد جب وہ پینشن پا کر قادیان تشریف لائے تو مرکز میں لمبے عرصہ تک جائنٹ ناظر بیت المال کے عہدہ پر بہت مخلصانہ خدمات سرانجام دیں۔شملہ میں تنظیم اور با قاعدگی اور حسن تدبیر کی خوبیاں ان کے کام کی طرہ امتیاز تھیں۔خان صاحب مرحوم خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب کے حقیقی ماموں تھے۔خان صاحب برکت علی صاحب نے 86 سال کی عمر میں وفات پائی ہے۔مگر ہمت اور جذبہ خدمت کا یہ عالم تھا کہ غالباً دو سال ہوئے انہوں نے قرآنی علوم کے فہم کے متعلق ایک رسالہ تصنیف کر کے شائع کیا تھا۔جس کے بعض مضامین واقعی عمدہ اور اچھوتے تھے۔اسی طرح ان کی اکثر روایات بھی غالبا چھپ چکی ہیں۔خان صاحب مرحوم نے اپنے پیچھے کوئی اولاد نہیں چھوڑی۔ان کی اہلیہ جو وہ بھی خاوند کی طرح بہت نیک اور مخلص تھیں ان کی زندگی میں ہی چند سال ہوئے فوت ہو گئی تھیں اور ربوہ کے مقبرہ بہشتی میں مدفون ہیں۔مرحومہ کو حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا کے ساتھ بہت عقیدت تھی۔اللہ تعالیٰ دونوں کو غریق رحمت کرے اور اپنے خاص افضال سے نوازے اور جماعت میں ان کی امثال پیدا کر کے ان کے نیک عمل کو جاری رکھے۔آمین۔(محرره 7 اگست 1958 ء) روز نامه الفضل ربوه 10 اگست 1958ء) کتاب ظہور احمد موعود مصنفہ محترم قاضی محمد یوسف صاحب پر تبصرہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے محترم قاضی محمد یوسف صاحب کی تازہ تصنیف ” ظہور احمد موعود “ پڑھ