مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 537 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 537

مضامین بشیر جلد سوم 537 سے بھی تھیں۔جب تک روزوں کی طاقت رہی روزے رکھے اور بعد میں بہت التزام کے ساتھ فدیہ ادا کرتی رہیں۔یہ انہی کی نیک تربیت کا اثر تھا کہ ان کی اولا دخدا کے فضل سے نمازوں اور دعاؤں میں خاص شغف رکھتی ہے۔سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ کو یہ امتیاز بھی حاصل تھا کہ وہ عرصہ دراز تک لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی صد رر ہیں۔حضرت ام ناصر احمد صاحبہ کی وفات کے نتیجہ میں احباب جماعت کو اس وقت خاص طور پر چار دعاؤں پر بہت زور دینا چاہئے۔(اول) یہ کہ حضرت صاحب کی طبیعت پر ان کی وفات کا کوئی ایسا اثر نہ پڑے جو حضور کی بیماری اور تکلیف میں اضافہ کرنے کا موجب ہو۔(دوسرے ) یہ کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی اولاد کا حافظ و ناصر ہو خصوصاً عزیز رفیق احمد کا جو اس وقت بہت غم زدہ اور مضمحل ہے۔(تیسرے) یہ کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نماز جنازہ میں بہت لطیف دعا سکھائی ہے جماعت ہماری بھا وجہ مرحومہ کے نیک اعمال کے اجر سے محروم نہ ہونے پائے۔(چوتھے ) یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ربوہ میں خواتین کے لئے کوئی ایسا وجود پیدا کر دے جو اپنے اندر مرکزیت کا مقام رکھتا ہوتا کہ احمدی مستورات اس سے مل کر اپنے دلوں میں روحانی راحت پائیں اور اپنے مسائل میں مشورہ حاصل کر کے سکون حاصل کر سکیں۔ہماری دوسری بھاوج سیدہ ام متین صاحبہ حضرت خلیفہ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ کی خدمت میں قابلِ رشک انہاک رکھتی ہیں اور ایک طرح سے خط وکتابت کے کام میں حضرت صاحب کی گویا پرائیویٹ سیکرٹری بھی ہیں۔مگر طبعا انہیں مستورات سے ملاقات کرنے کے لئے بہت کم وقت ملتا ہے اور پھر طبائع کی مناسبت بھی جدا گانہ ہوتی ہے۔اس لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ جو بات میں نے فقرہ نمبر چہارم کے ماتحت لکھی ہے اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے اس کا کوئی احسن انتظام فرما دے۔یا ہماری ہمشیرہ کے لئے ہی ربوہ میں آکر خیر و خوبی کے ساتھ آباد ہونے کا رستہ کھل جائے۔( محررہ 4 اگست 1958 ء)۔۔۔۔۔۔۔۔روزنامه الفضل ربوہ 7 اگست 1958 ء ) خان صاحب منشی برکت علی صاحب شملوی کا انتقال اور ذکر خیر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے خان صاحب منشی برکت علی صاحب شملوی کی وفات کی اطلاع الفضل میں بھجواتے ہوئے ان کے اوصاف کا یوں ذکر فرمایا۔خان صاحب موصوف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے اور بہت نیک اور مخلص اور سادہ مزاج