مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 539 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 539

مضامین بشیر جلد سوم 539 کر ایک خط میں آپ کو تحریر فرمایا۔چند دن ہوئے مجھے مولوی عبد اللطیف صاحب نے آپ کی تازہ تصنیف ” ظہور احمد موعود‘ کا ایک نسخہ بھجوایا جو میں نے ایک نشست میں ہی ختم کر لیا۔بہت دلچسپ اور ایمان افروز کتاب ہے۔بعض حصوں کے مطالعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔حضرت مسیح موعود پر آپ کا چٹان کی طرح ایمان بہت قابل رشک ہے۔اور غیر مبایعین کے مقابلہ پر آپ کا مضبوط اور مستحکم قدم بھی بہت قابل قدر ہے۔قبروں پر پھول چڑھانا روزنامه الفضل ربوہ 14 اگست 1958ء) حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا ایک ارشاد اور اس کی حکمت چند دن ہوئے نظارت اصلاح وارشادر بوہ کی طرف سے الفضل (مورخہ 12 اگست ) میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کا ایک فتویٰ قبروں پر پھول ڈالنے کے متعلق شائع ہوا تھا۔یہ فتویٰ اپنی ذات میں بہت خوب ہے مگر یہ فتویٰ صرف ایک خاص پہلو کو مد نظر رکھ کر دیا گیا تھا۔کیونکہ فتویٰ پوچھنے والے نے صرف اس جہت سے فتویٰ پوچھا تھا کہ کیا میت کی روح کو راحت پہنچانے کی غرض سے قبر پر پھول ڈالنا جائز ہے۔جسے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے بدعت قرار دے کرنا جائز اور خلاف شریعت گردانا۔لیکن اس فتویٰ کے بعد بھی مسئلہ کا یہ پہلو قابل تشریح رہتا ہے کہ روح کو خوشی پہنچانے کی غرض سے نہ سہی لیکن کیا ویسے ہی زینت وغیرہ کے خیال سے قبروں پر پھول رکھے جاسکتے ہیں؟ سواس کے متعلق مجھے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کا ایک ارشاد یاد آیا ہے جس میں مسئلہ کے اس پہلو پر بھی روشنی پڑتی ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے: جب 1938ء میں (غالبا یہ 38 ء کا سال ہی تھا ) لندن سے عزیز سعید احمد مرحوم پسر مرزا عزیز احمد صاحب ایم۔اے کا تابوت آیا اور وہ بچوں والے مقبرہ میں دفن کیا جانے لگا تو اس وقت حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بھی جنازہ کے ساتھ قبرستان تک تشریف لے گئے تھے۔جب قبر تیار ہوگئی تو حاضر الوقت اصحاب میں سے کسی نے زینت اور اکرام کے خیال سے قبر پر کچھ پھول بکھیر نے چاہے۔لیکن حضرت