مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 518 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 518

مضامین بشیر جلد سوم 518 میں حرج نہیں۔کیونکہ مومن ایک دوسرے کے لئے سہارا ہوتے ہیں۔وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللهِ (آل عمران: 127) وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ (آل عمران:123 ) یہ خاکسار بھی اپنی کمزوریوں اور فروگزاشتوں کے لئے احباب کرام کی مخلصانہ دعاؤں کا طالب ہے۔وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ - ( محرره 26 مارچ 1958 ء) ہزار مہینوں کی ایک رات روزنامه الفضل ربوہ 2 اپریل 1958ء) مغرب سے لے کر فجر تک سلام و رحمت کا نزول چند دنوں میں رمضان مبارک کا آخری عشرہ شروع ہونے والا ہے۔اسی عشرہ میں وہ مبارک رات آتی ہے جس کے متعلق قرآن مجید فرماتا ہے کہ إِنَّا أَنزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِهِ وَمَا أَدْرَكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِهِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرِه تَنَزَّلُ الْمَلَئِكَةُ وَالرُّوْحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرِهِ سَلَمٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْره (سورة القدر) یعنی ہم نے قرآنی شریعت کو ایک عظیم الشان رات کے زمانہ میں اتارا ہے۔اور اے مخاطب ! تو کیا جانے کہ یہ رات کتنی برکات اور کتنے فضائل کی حامل ہے۔یہ رات تو ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔اس میں خدا کے فرشتے ، خدا کے اذن سے، اس کے پاک کلام کے ساتھ ، ہر ضروری امر لے کر زمین پر اترتے ہیں اور پھر غروب آفتاب سے لے کر فجر تک سلام ورحمت کا مسلسل نزول ہوتا رہتا ہے۔ان لطیف آیات کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل کا زمانہ گویا روحانی لحاظ سے ایک تاریک ترین رات کے مشابہ تھا۔جب کہ ظَهَرَ الْفَسادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم : 42) کے مطابق ہر آسمانی روشنی مدھم پڑتے پڑتے بالآخر مجھ چکی تھی اور چاروں طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا۔حتی کہ وہ وقت آیا کہ آپ کے بے مثل روحانی سورج نے افق مشرق سے طلوع ہو کر اس رات کی تاریکی کو دن کی روشنی میں بدل دیا۔اور پھر خدائے اسلام نے قیامت تک کے لئے یہ مقدر کیا کہ ہر ہزار مہینے کے بعد ( جو کچھ اوپر