مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 517 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 517

مضامین بشیر جلد سوم 517 سکون حاصل کرنے کے لئے مدعی بنتے ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اس چیز سے طبعی نفرت ہے۔اور فرماتے تھے کہ اگر تمباکو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوتا تو مجھے یقین ہے کہ آپ اسے منع فرماتے۔پس دوستوں کو اس کے ترک کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔لیکن اگر کسی شخص کے لئے لمبی عادت کی وجہ سے فوری ترک ممکن نہ ہو تو کم از کم اتنی احتیاط تو رکھی جائے کہ دوسروں کے سامنے تمباکو نوشی سے پر ہیز کیا جائے تا کہ ان کی یہ کمزوری اپنے تک محدود ر ہے۔اور ان کی اولا دیا دوسرے عزیزوں اور دوستوں میں سرایت نہ کرنے پائے۔(13) بالآخر اس زمانہ میں سینما دیکھنے کی عادت بھی ایک وبا کی صورت اختیار کر کے لاکھوں انسانوں کی زندگی کو تباہ کر رہی ہے اور گندی اور فحش فلموں اور خلاف اخلاق مناظر دیکھنے کے نتیجہ میں ان کے دل و دماغ میں گویا گھن لگ گیا ہے۔اور سینما کی ناپاک کشش نے خام طبیعت کے نو جوانوں کو مختلف انواع کے جرائم کی طرف بھی مائل کر رکھا ہے۔ہماری جماعت میں سینما جانا منع ہے۔مگر سنا جاتا ہے کہ بعض بے اصول احمدی بھی کبھی کبھی اس کمزوری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اگر کوئی خالصتہ علمی یا طبعی یا تاریخی یا جغرافیائی یا جنگی فلم ہوتی جو الف سے لے کر ی تک گندے مناظر سے پاک ہوتی تو لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔مگر موجودہ صورت میں جو فلمیں بظاہر اچھی کبھی جاتی ہیں ان میں بھی دودھ کے گلاس میں چند قطرے پیشاب کے بھی ملے ہوتے ہیں۔پس بہر حال ان سے اجتناب لازم ہے۔یہ چند کمزوریاں میں نے صرف مثال کے طور پر شمار کی ہیں ورنہ کمزوریاں تو بے شمار ہیں۔مثلاً بدنظری، غیبت، گالی گلوچ کی عادت، بخش گوئی بخش اور گندے رسالے پڑھنا، بریکاری میں وقت گزارنا وغیرہ وغیرہ۔ہر شخص اپنے حالات کا جائزہ لے کر اپنے متعلق خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ اگر ساری بدیاں نہیں چھوڑ سکتا تو کم از کم اسے پہلے کس بدی کو ترک کرنا چاہیئے ؟ پس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک منشاء کے مطابق احباب جماعت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس رمضان میں اپنی کسی نہ کسی کمزوری کو سامنے رکھ کر اسے ترک کرنے کا عہد کریں۔اور پھر خدا سے نصرت چاہتے ہوئے اس بدی سے اس طرح الگ رہیں جس طرح کہ صاحب عزم مومنوں کا شیوا ہوتا ہے۔تا کہ ان کا رمضان ٹھوس اور معین نتیجہ پیدا کرنے والا ثابت ہو۔جیسا کہ میں نے کہا ہے اس عہد کو کسی پر ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ ہمارا خداستار ہے اورستاری کو پسند کرتا ہے۔مگر تفصیل ظاہر کرنے کے بغیر بزرگوں اور دوستوں سے دعا کی تحریک کرنے