مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 519 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 519

مضامین بشیر جلد سوم 519 تر اسی سال کا زمانہ بنتا ہے ) ایک مجدد مبعوث ہو کر گزرے ہوئے زمانہ کی کدورتوں کو دھو کر دین کو ازسر نو پاک وصاف کر دیا کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت بھی اسی لیلۃ القدر میں ہوئی تھی۔لیکن ان آیات کے ایک ظاہری معنی بھی ہیں جو معروف لیلۃ القدر سے تعلق رکھتے ہیں۔جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِى الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الآوَاخِرِ مِنْ رَمَضان۔( بخاری کتاب الصوم) یعنی اے مسلمانو! رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کسی رات میں لیلۃ القدر کو تلاش کر کے اس کی برکات سے فائدہ اٹھایا کرو۔ایک دوسری حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مَنْ كَانَ مُتَحَرِّيْهَا فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبع الآوَاخِرِ۔( صحیح بخاری کتاب الصوم) یعنی جس شخص کو لیلۃ القدر کی برکات کی تمنا ہوا اسے چاہئے کہ اسے رمضان کی آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔ایک تیسری حدیث میں آپ فرماتے ہیں کہ التَمِسُوْهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ۔( صحیح بخاری کتاب الصوم) یعنی لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں انیسویں اور ستائیسویں اور پچیسویں رات میں تلاش کرو۔ان احادیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ گو خدا تعالیٰ کی ازلی حکمت نے ( اور اس حکمت کا مقصد ظاہر ہے کہ مسلمان کم از کم چندرا تیں تو تلاش میں گزاریں اور کسی ایک رات پر تکیہ نہ کر بیٹھیں لیلتہ القدر کو معین صورت میں تو ظاہر نہیں فرمایا لیکن یہ بات ضرور معین فرما دی ہے کہ یہ رات رمضان کے آخری عشرہ کی وتر راتوں میں سے کوئی نہ کوئی رات ہوتی ہے۔وتر کی یعنی طاق رات کی یہ خصوصیت ہے کہ اللهُ وتُرٌ وَ يُحِبُّ الْوِتر کے اصول کے مطابق ہمارا خدا وتر ہے اور وہ وتر کو پسند کرتا ہے۔اور آخری عشرہ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ رمضان کے دو ابتدائی عشرے مخصوص عبادت اور ذکر الہی میں گزارنے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں ایک خاص روحانی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جو دعاؤں کی قبولیت کے ساتھ انتہا درجہ کی مناسبت رکھتی ہے۔اس لئے حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آتا ہے کہ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرَ شَدَّ مِعْزَرَةٌ وَأَحْىٰ لَيْلَهُ وَ أَيْقَظَ أَهْلَهُ ( صحیح بخاری کتاب الصوم)