مضامین بشیر (جلد 3) — Page 505
مضامین بشیر جلد سوم 505 میں بیمار ہو یا سفر پر ہو۔اس صورت میں خدا نے یہ رعایت دی ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے اور رمضان کے بعد صحت ہونے پر سفر کی حالت ختم ہونے پر گنتی پوری کر لے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص خدائی رعایت سے فائدہ نہیں اٹھاتا وہ گویا خدا کو سینہ زوری سے راضی کرنا چاہتا ہے۔اور یہ طریق خدا کو پسند نہیں۔(4) جو شخص ضعیف العمری یا دائم المرض ہونے کی وجہ سے نہ تو رمضان میں روزے رکھ سکتا ہو اور نہ رمضان کے بعد گنتی پوری کرنے کی امید رکھتا ہو اس کے لئے خدائی حکم یہ ہے کہ روزہ کی بجائے اپنی حیثیت کے مطابق کسی غریب کو فدیہ ادا کر دے۔فدیہ کھانے کی صورت میں یا نقدی کی صورت میں ہر دو طرح ادا کیا جاسکتا ہے اور بعض اولیاء نے فدیہ کے حکم کو اس رنگ میں بھی لیا ہے کہ خواہ رمضان کے بعد گنتی پوری کرنے کی امید ہو پھر بھی مناسب ہے کہ رمضان کے روزوں سے محرومی کی تلافی کے لئے فدیہ ادا کر دیا جائے اور صحت ہونے پر یا سفر سے واپس آنے پر روزے بھی رکھ لئے جائیں۔(5) رمضان کے مہینہ میں روزوں کے علاوہ نفل نمازوں پر بھی خاص زور دیا گیا ہے اور نفل نماز میں تہجد کی نماز کو خاص الخاص مقام حاصل ہے۔تہجد کے یہ معنی ہیں کہ رات کے ابتدائی حصہ میں کچھ وقت سونے کے بعد رات کے آخری حصہ میں اٹھ کر چند رکعت ( مسنون تعداد آٹھ رکعت ہے ) نماز ادا کی جائے۔اور اگر وتر پہلے وقت میں عشاء کی نماز کے ساتھ نہ پڑھ لئے گئے ہوں تو انہیں بھی نماز تہجد کے ساتھ شامل کر لیا جائے۔اسی طرح یہ گیارہ رکعت نماز ہو جاتی ہے۔جن میں سے دس رکعتیں دو دو کر کے پڑھی جاتی ہیں اور آخری رکعت اکیلی پڑھی جاتی ہے۔گو آخر میں وتر کی تین رکعتیں اکٹھی پڑھنا بھی جائز ہے۔تہجد کے بعد اور صبح کی نماز سے قبل پھر کچھ وقت کے لئے لیٹ کر آرام کرنا سنت ہے۔تہجد کی نماز کو انسان کی روحانی ترقی سے خاص تعلق ہے۔چنانچہ قرآن مجید میں خدا فرماتا ہے کہ ہر انسان کا ایک مقام محمود ہوا کرتا ہے جو اس کی ترقی کا آخری نقطہ ہوتا ہے اور اپنے مقام محمود تک پہنچنے کے لئے تہجد کی نماز بہترین زینہ ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام محمود سب سے بالا ، سب سے اونچا ،سب سے ارفع اور سب سے بلند تر ہے جسے قَابَ قَوْسَيْن أَوْ أَدْنى (النجم: 10) کے الفاظ کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے۔تہجد سے اتر کر نفلی نمازوں میں ضحی کی نماز بھی ایک بابرکت نماز ہے۔جسے عوام الناس چاشت یا اشراق کی نماز کہتے ہیں جو فجر اور ظہر کی نمازوں کے درمیانی وقفہ میں ادا کی جاتی ہے۔صحابہ کرام اس کے التزام کا بھی خیال رکھتے تھے۔