مضامین بشیر (جلد 3) — Page 504
مضامین بشیر جلد سوم 504 مضمون لکھا کرتا تھا مگر اب کسی مفصل مضمون کی طاقت نہیں پاتا۔اس لئے ثواب کی خاطر سے ذیل کے مختصر سے سادہ فقرات پر اکتفا کرتا ہوں۔شاید یہ چند سطور دوستوں کو اس مبارک مہینہ کی غیر معمولی اہمیت کو سمجھنے (1) اور اس کی برکات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی طرف توجہ دلانے میں کارآمد ثابت ہوں۔زمانہ جاہلیت میں رمضان کے مہینہ کا نام ناطق ہوتا تھا۔اسلام میں اس کا نام بدل کر رمضان کر دیا گیا۔رمضان کا لفظ رمض سے نکلا ہے جس کے معنی تپش اور گرمی کی شدت کے ہیں۔اس مہینہ کو یہ نام اس لئے دیا گیا ہے تا اس کی روحانی تاثیر کی طرف اشارہ کیا جائے۔جو یہ ہے کہ اس مہینہ کے روزے اور اس کا قیام اللیل اور اس کی دعائیں اور اس کی تلاوت قرآنی اور اس کے صدقہ و خیرات اور اس کے آخری عشرہ کا اعتکاف سچے مومنوں کے دلوں میں غیر معمولی روحانی حرارت پیدا کر دیتے ہیں جس کی لذت کو وہی لوگ پہچانتے ہیں جو اس کو چہ کے آشنا ہیں۔(2) اس مہینہ کو اس غیر معمولی عبادت کے لئے اس لئے چنا گیا ہے کہ اس میں قرآن کے نزول کا ابتداء ہوا تھا۔جیسا کہ فرمایا شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ (البقرہ: 186) اور چونکہ کلام پاک کے نزول کی ابتداء اپنے اندر غیر معمولی برکات رکھتی ہے جن کے ذریعہ گویا آسمان کی کھڑکیاں کھول دی گئیں۔اس لئے اس کی یاد میں اس مہینہ کو غیر معمولی عبادات کے لئے چنا گیا۔گویا اس مہینہ میں ہر سچا مسلمان اپنے آسمانی آقا سے عرض کرتا ہے کہ خدایا چونکہ تو نے میرے لئے ان ایام میں اپنے ابدی کلام کے سننے کا دروازہ کھولا اس لئے میں بھی اس کی یاد میں اس مہینہ کو تیری خاص عبادت میں گزاروں گا۔اسی لئے خدا فرماتا ہے کہ ہر عبادت کے لئے ایک مخصوص اجر ہوتا ہے لیکن روزہ کا اجر میں خود ہوں۔(3) رمضان کی مخصوص عبادت صوم یعنی روزہ ہے۔جس کے معنی نفسانی خواہشات سے رکنے کے ہیں۔کیونکہ اس میں انسان سحری کے وقت سے لے کر غروب آفتاب تک خدا کی خاطر کھانے پینے اور بیوی کے پاس جانے سے پر ہیز کرتا ہے اور اس طرح خدا تعالیٰ سے گویا ایک عملی عہد باندھتا ہے کہ میں تیرے لئے اور تیرے دین کے لئے ضرورت پیش آنے پر اپنی جان اور اپنی نسل تک کو قربان کرنے سے دریغ نہیں کروں گا۔اور روزہ میں بھوکا پیاسا رہنے میں ایک غرض یہ بھی ہے کہ تا مسلمانوں میں اپنے غریب بھائیوں کی غربت اور تنگ حالی کا احساس پیدا کرایا جائے اور بتایا جائے کہ دیکھو تم ایک دن کے روزہ میں کتنی تکلیف اٹھاتے ہواور پھر خود سوچ لو کہ تمہارے غریب بھائی جن کی گویا ساری عمر ہی بھوک پیاس میں گزرتی ہے ان کا کیا حال ہوتا ہوگا۔روزہ ہر عاقل بالغ مسلمان پر فرض ہے۔سوائے اس کے کہ وہ رمضان کے مہینہ