مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 506 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 506

مضامین بشیر جلد سوم 506 نوٹ : رمضان کے متعلق یہ رعایت ہے کہ عوام الناس کی سہولت کے لئے تہجد کی نماز رات کے آخری حصہ میں ادا کرنے کی بجائے عشاء کی نماز کے بعد ادا کر لی جائے۔ہر دوصورت میں رمضان کی نفلی نماز جو رات کے وقت یا باجماعت ادا کی جائے تراویح کی نماز کہلاتی ہے۔(6) رمضان میں تلاوت قرآن مجید پر بہت زور دیا گیا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ ہر رمضان میں حضرت جبرائیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر قرآن کا ایک دور پورا کیا کرتے تھے۔لیکن جب قرآن کا نزول مکمل ہو گیا تو جبرائیل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری رمضان میں آپ کے ساتھ دو دور پورے کئے۔اس لئے بہتر اور افضل یہی ہے کہ رمضان میں قرآن مجید کے دو دور مکمل کئے جائیں۔اس تکرار میں یہ اشارہ ہے کہ ہم قرآن کو ایک دفعہ پڑھ کر چھوڑ نہیں دیں گے بلکہ بار بار پڑھتے اور دہراتے رہیں گے۔قرآن مجید کی تلاوت کا بہترین طریق یہ ہے کہ اسے پڑھنے والا ہر رحمت کی آیت پر خدائی فضل و رحمت کی دعا مانگے اور ہر عذاب کی آیت پر استغفار کرتا ہوا آگے گزرے۔اور خدائی کلام کو سمجھ کر پڑھنے کی عادت ڈالے۔(7) رمضان کا مہینہ دعاؤں کے ساتھ بھی خاص جوڑ رکھتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنی قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقره: 187 ) یعنی میں رمضان میں اپنے بندوں کے بہت زیادہ قریب ہو جاتا ہوں اور دعا کرنے والے کی دعا کو خاص طور پر سنتا ہوں۔جو ہستی پہلے ہی انسان کی شہ رگ سے زیادہ قریب ہے اس کے اور بھی زیادہ قریب ہو جانے کی شان کا کیا کہنا ہے؟ پس رمضان میں ذاتی اور جماعتی دعاؤں پر خاص زور دینا چاہئے اور بدقسمت ہے وہ انسان جس پر رمضان آئے اور گزرجائے اور پھر بھی اس کی جھولی خالی کی خالی رہ جائے۔دعاؤں میں درد اور اضطراب کی کیفیت پیدا کرنا اور خدا کے متعلق ایسا یقین کرنا کہ وہ ہمارے سامنے ہے اور ہم اس کے سامنے ہیں۔قبولیت دعا کا بہترین ذریعہ ہے۔اور یہ ذریعہ عمل صالح کے نتیجہ میں حاصل ہوتا ہے۔دعاؤں کے علاوہ ذکر الہی پر بھی بہت زور ہونا چاہئے۔اور اس ضمن میں تسبیح تحمید، تکبیر اور کلمہ طیبہ چوٹی کے اذکار سمجھے جاتے ہیں۔(8) رمضان میں صدقہ و خیرات پر بھی بہت زور دیا گیا ہے۔گویا کہ اس مبارک مہینہ میں سب مسلمان ایک کنبہ کا رنگ اختیار کر لیتے ہیں اور ایک کا دکھ سب کا دکھ بن جاتا ہے۔سخت شقی ہے وہ انسان جو رمضان میں عیش منائے اور اس کے ہمسائے نانِ جویں تک کو ترسیں اور روٹی کی خشکی کو پانی سے تر کرنے کے سوا کوئی صورت نہ پائیں۔ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کایہ حال تھا کہ باوجود مالی غربت اور عسرت کے