مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 440 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 440

440 مضامین بشیر جلد سوم اور اس کی دعاؤں کو زیادہ سنتا ہے۔لیکن چونکہ لیلۃ القدر در بار عام کا حکم رکھتی ہے جبکہ خدائی انعاموں کا وسیع چھینٹا پڑتا ہے۔اس لئے سب لوگ اس سے علی قدر مراتب فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اٹھانا چاہئے۔اور خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔امِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔( محرره 21 رمضان 1376ھ ) (روز نامه الفضل 25 اپریل 1957ء) 15 الفضل اور علامہ اقبال اخبار ” نوائے وقت لاہور کی اشاعت امروزہ میں ایڈیٹر صاحب ” نوائے وقت“ کی طرف سے ایک ایڈیٹوریل نوٹ شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے علامہ اقبال مرحوم کے متعلق الفضل کے ایک ادارتی مقالہ کی بناء پرغم وغصہ کا اظہار کیا ہے۔میں نے الفضل کا وہ نوٹ نہیں دیکھا جس کی بناء پر ” نوائے وقت“ کو یہ مقالہ لکھنا پڑا ہے۔لیکن اگر الفضل نے واقعی یہ لکھا تھا کہ احمدیت کی مخالفت میں جو رسالے علامہ اقبال کی طرف منسوب کئے گئے ہیں وہ دراصل علامہ موصوف کے لکھے ہوئے نہیں ہیں بلکہ یونہی غلط طور پر ان کی طرف منسوب کر دیئے گئے ہیں تو یقینا الفضل کی غلطی ہے۔یہ بالکل درست ہے کہ علامہ اقبال شروع میں احمدیت اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے متعلق بہت عقیدت رکھتے تھے۔لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ وہ آخر تک اس عقیدت پر قائم رہے اور یہ کہ بعد کے مخالفانہ بیانات ان کے لکھے ہوئے نہیں ہیں درست نہیں۔انسان کے خیالات میں بسا اوقات تبدیلی ہوتی رہتی ہے اور یہ تبدیلی کبھی اچھی ہوتی ہے اور کبھی بُری۔پس اگر علامہ اقبال نے شروع میں احمدیت کے متعلق اچھے خیالات اور عقیدت کا اظہار کیا تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا جائز نہیں کہ جو مخالفانہ خیالات بعد میں ان کی طرف منسوب کئے گئے ہیں وہ علامہ موصوف کے اپنے خیالات نہیں بلکہ کسی اور شخص نے ان کی طرف غلط منسوب کر دیئے ہیں۔پس جہاں تک تبدیلی عقیدہ کا سوال ہے ایڈیٹر صاحب ” نوائے وقت کا اعتراض اصولی طور پر درست ہے۔اور ہمیں اس کے درست ماننے میں کوئی امر مانع نہیں۔لیکن دوسری طرف اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں کہ علامہ مرحوم اپنی ابتدائی زندگی میں بھی احمدیت کے مداح اور معتقد نہیں رہے۔آخر ان کے ان الفاظ سے کون انکار کر سکتا ہے کہ: