مضامین بشیر (جلد 3) — Page 441
مضامین بشیر جلد سوم 441 ” میری رائے میں قومی سیرت کا وہ اسلوب جس کا سایہ عالمگیر (اورنگ زیب) کی ذات نے ڈالا ہے ٹھیٹھ اسلامی سیرت کا نمونہ ہے۔اور ہماری تعلیم کا مقصد ہونا چاہئے کہ اس نمونہ کو ترقی دی جائے اور مسلمان ہر وقت اسے پیش نظر رکھیں۔پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اس جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا ہے جسے فرقہ قادیانی کہتے ہیں۔“ ( تقریر 1910 علی گڑھ ملت بیضا پر ایک عمرانی نظر صفحہ 18 مطبوعہ ویسٹ پنجاب پرنٹنگ پریس لاہور متر جمہ مولوی ظفر علی خاں مرحوم) اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ علامہ موصوف کے بڑے بھائی محترم شیخ عطا محمد صاحب مرحوم احمدی تھے اور آخری دم تک احمدیت سے وابستہ رہے۔اور ایک زمانہ میں خود علامہ اقبال مرحوم نے اپنے فرزند اکبر آفتاب احمد صاحب کو قادیان میں تعلیم پانے کے لئے بھجوایا تھا جہاں انہوں نے میرے علم کے مطابق اپنی طالب علمی کے زمانہ میں بیعت بھی کی تھی۔ایڈیٹر صاحب ” نوائے وقت“ نے اپنے مقالہ کے آخر میں یہ اشارہ بھی کیا ہے کہ گویا جماعت احمد یہ علامہ اقبال کو واجبی عزت کی نظر سے نہیں دیکھتی ( یہ الفاظ ” نوائے وقت“ کے نہیں ہیں بلکہ ان کے نوٹ سے نتیجہ نکال کر لکھے گئے ہیں) لیکن ان کا یہ خیال ہر گز درست نہیں۔ہم علامہ اقبال کو ایک بہت بڑا شاعر اور ایک بڑا فلسفی یقین کرتے ہیں اور پاکستان کے قومی لیڈر ہونے کے لحاظ سے ان کو بڑی عزت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔لیکن عقائد کا معاملہ بہر حال جدا گانہ ہے اور اس میں ہر شخص اپنے ضمیر کے مطابق عقیدہ رکھنے کا حق رکھتا ہے۔( محرره 15 مئی 1957 ء) روزنامه الفضل ربوہ 19 مئی 1957 ء ) ڈاکٹر غلام محمد صاحب کے ساتھ میری خط و کتابت غیر مبانتعیین کا غیر شریفانہ اور غیر اسلامی رویہ کچھ عرصہ ہوا ڈاکٹر غلام محمد صاحب صدر احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لا ہور کا ایک مضمون زیر عنوان خطاب به اہل ربوہ غیر مبائعین کے اخبار ”پیغام صلح میں شائع ہوا تھا۔اس مضمون کے آخری حصہ میں