مضامین بشیر (جلد 3) — Page 439
مضامین بشیر جلد سوم 439 میں یہ بھی آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لیلۃ القدر میں بارش کے قطرے برستے دیکھے تھے۔اور اس رات واقعی ظاہر میں بھی بارانِ رحمت کا نزول ہوا تھا۔لیکن ضروری نہیں کہ ہر دفعہ یہی مادی علامت ظاہر ہو۔خدائی مشیت بسا اوقات انسان کی روحانی ترقی کے لئے ظاہری علامتوں کی بجائے روحانی علامتوں کو زیادہ ترجیح دیتی ہے۔تا کہ مومنوں میں جستجو کی کیفیت کو برقرار رکھا جائے۔اور وہ کم از کم آخری عشرہ کی طاق راتیں تو لیلۃ القدر کی تلاش میں گزاریں۔بلکہ بہتر تو یہ ہے کہ طاق راتوں پر بھی حصر نہ کیا جائے بلکہ سارا عشرہ ہی مخصوص عبادت اور مخصوص دعاؤں میں گزارا جائے۔حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ اگر مجھے لیلتہ القدر میسر آوے تو میں اس میں کیا دعا کروں؟ فرمایا یہ دعا کرو کہ: اللهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي (سنن ابن ماجہ کتاب الدعاء باب الدعاء بالعفو والعافية ) یعنی اے میرے آسمانی آقا! تجھ میں یہ صفت اور طاقت ہے کہ اپنے بندے کے گناہوں کو اس طرح محو کر دے اور مٹادے کہ گویا وہ ہوئے ہی نہیں۔اور تو اس قسم کی بخشش کو پسند فرماتا ہے۔پس تو میری خطاؤں کے ساتھ بھی یہی معاملہ فرما اور مجھے بے حساب بخشش پانے والے بندوں میں شامل کر لے۔غالباً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا سوال کرنے والے کے مخصوص حالات یا مخصوص آرزو کو مد نظر رکھ کر تلقین فرمائی تھی۔اس لئے ضروری نہیں کہ ہر شخص اپنے آپ کو اس دعا تک محدود رکھے بلکہ ہر قسم کی جماعتی اور انفرادی دعائیں کی جاسکتی ہیں اور کرنی چاہئیں۔مگر برکت کے خیال سے اس دعا کو بھی ضرور لیلۃ القدر کی دعاؤں میں شامل کر لینا چاہئے۔لیکن جیسا کہ میں بار بارلکھ چکا ہوں ہمارے بھائیوں اور بہنوں کو یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہئے کہ اسلام میں ہرگز کوئی منتر جنتر نہیں ہے کہ ادھر منہ سے ایک بات نکلی اور اُدھر جھٹ آسمان تک پہنچ گئی۔اور سارا سال غفلت میں گزارا اور ایک رات کی عبادت سے ابدی تعویذ حاصل کر لیا۔بلکہ اسلام مستقل طہارت نفس اور مسلسل مجاہدہ کا نام ہے۔پس سچا مومن وہی ہے جو تقویٰ کے مقام پر قائم ہو اور اپنی زندگی رضائے الہی اور نیکی اور عمل صالحہ کی کوشش میں گزارے۔اور لیلۃ القدر بھی زیادہ تر اس شخص کو فائدہ دیتی ہے جو خدا اور اس کے رسول کے ساتھ کچی محبت رکھتا ہے۔اور اسلام اور احمدیت کا وفادار اور مخلص خدمت گزار ہے۔ایسے شخص پر خدا تعالیٰ اپنے فضل و رحمت کا سایہ رکھتا ہے اور اس کی لغزشوں پر چشم پوشی فرماتا ہے