مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 423 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 423

مضامین بشیر جلد سوم 423 اور جہاں تک ممکن ہو چلتے پھرتے ، اٹھتے بیٹھتے ذکر الہی کی شیرینی سے اپنے دل و زبان کو تر و تازہ رکھنے کی کوشش کی جائے۔ذکر الہی میں کلمہ طیبہ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللَّهِ اور تسبیح وتحمید یعنی سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظیم بہترین اذکار ہیں۔اسی طرح لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ بھی بہت عمدہ اذکار میں سے ہے۔اور خدا تعالیٰ کی مختلف صفات یعنی اسماء حسنیٰ کو ان کی حقیقت پر غور کرتے ہوئے یاد کرنا اور ان کا اور درکھنا روح کی بالیدگی کا ایک نہایت مجرب ذریعہ ہے۔(5) رمضان کی ایک خصوصی برکت صدقہ و خیرات ہے۔جس کے ذریعہ نہ صرف صدقہ دینے والا خدا کی عظیم الشان نعمتوں سے حصہ پاتا ہے اور تلخ تقدیر میں دور ہوتی ہیں اور انسان کی کمزوریوں پر خدا کی ستاری کا پردہ پڑتا ہے بلکہ قوم کے غریب افراد کی ضروریات کے پورا ہونے کا بھی سامان پیدا ہوتا ہے۔اور چونکہ رمضان میں غرباء کی ضروریات غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہیں اس لئے لازماً رمضان کا صدقہ وخیرات بہت زیادہ ثواب کا موجب ہوتا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ رمضان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دستِ مبارک صدقہ و خیرات میں اس طرح چلتا تھا جس طرح کہ ایک ایسی تیز آندھی چلتی ہے جو کسی روک کو خیال میں نہ لائے۔اس صدقہ و خیرات کا بہترین مصرف اپنے ماحول کے غرباء اور مساکین ہیں۔کیونکہ اس سے آپس کی محبت اور اخوت اور ہمدردی اور مواخات کو ترقی حاصل ہوتی ہے۔لیکن حسب حالات مرکز میں بھی صدقہ کی رقوم بھجوائی جاسکتی ہیں۔(6) رمضان میں قرآن مجید کی تلاوت پر بھی خاص طور پر زور دیا جاتا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام ہر رمضان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کا ایک دور مکمل کرتے تھے۔لیکن آخری سال جب کہ قرآن کا نزول مکمل ہو گیا تھا آپ نے تلاوت کے دو2 دور مکمل کئے۔چونکہ ہمارے لئے بھی قرآن مجید مکمل صورت میں موجود ہے اس لئے ہمیں بھی حتی الوسع دو2 دور پورے کرنے چاہئیں اور ایک دور تو بہر حال ضروری ہے۔اور قرآن کریم پڑھنے کا عمدہ طریق یہ ہے کہ ہر رحمت کی آیت پر دل میں دعا کی جائے اور ہر عذاب کی آیت پر استغفار کیا جائے۔اس طرح تلاوت گویا ایک زندہ حقیقت بن جاتی ہے بلکہ ایک مجسم دعا۔(7) ان عبادات کے علاوہ جن دوستوں کو توفیق ملے اور وہ اپنے فرائض منصبی سے فرصت پا سکیں اور ان کی صحت اور دیگر حالات بھی اجازت دیں تو انہیں رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کی برکات سے بھی فائدہ اٹھانا چاہئے۔اعتکاف گویا ایک وقتی اور محمد و درہبانیت ہے۔جس میں انسان چند دن کے لئے دنیا سے