مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 424 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 424

مضامین بشیر جلد سوم 424 کٹ کر کلیتہ خدا کے لئے وقف ہو جاتا ہے اور اس میں ان تمام عبادات پر خاص زور دیا جاتا ہے جو رمضان کے عام ایام کے لئے اوپر بیان کی گئی ہیں۔رمضان کا ایک خاص مسئلہ فدیہ کا مسئلہ ہے لیکن افسوس ہے کہ کئی لوگ اس مسئلہ کی حقیقت سے واقف نہیں اور ہر بیماری یا سفر کی صورت میں فدیہ دے کر خیال کرنے لگ جاتے ہیں کہ اب ہم روزوں کی ذمہ داری سے آزاد ہو گئے ہیں۔حالانکہ عام بیماری یا سفر کی صورت میں عِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ کا حکم ہے نہ کہ فدیہ کا۔یعنی ایسے لوگوں کو بیماری سے شفا پانے یا سفر کی حالت ختم ہونے کے بعد دوسرے ایام میں روزوں کی گنتی پوری کرنی چاہئے۔فدیہ صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو ضعف پیری یا دائم المرض ہونے کی وجہ سے دوسرے ایام میں روزوں کی گنتی پوری کرنے کی امید نہ رکھتے ہوں۔یا وہ ایسی عورتوں کے لئے ہے جو حمل اور رضاعت کے طویل زمانہ کی وجہ سے گنتی پوری کرنے سے عملاً معذور ہوں۔اسی لئے قرآن مجید میں فَعِدَّةٌ مِّنُ أَيَّامٍ أُخَرَ اور عَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينِ (البقرہ: 185) کے احکام کو علیحدہ علیحدہ صورت میں بیان کیا ہے۔بہر حال جو بھائی بہن ضعف پیری یا دائم المرض ہونے کی وجہ سے یا حمل اور رضاعت کی مجبوری کی بناء پر رمضان کے بعد روزوں کی گنتی پوری کرنے کی امید نہ رکھتے ہوں ان کو روزوں کے بدل کے طور پر فدیہ ادا کرنا چاہئے جو فدیہ دینے والے کی حیثیت کے مطابق ہونا ضروری ہے۔لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ فدیہ صرف روزہ کا بدل ہے۔رمضان کی باقی عبادات ( مثلا نوافل، دعائیں، تلاوت اور صدقہ و خیرات وغیرہ ) اس طرح قائم رہتی ہیں اور ان میں فدیہ دینے کے باوجود حتی المقدور اور حسب استطاعت غفلت نہیں ہونی چاہئے۔لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْساً إِلَّا وُسْعَهَا فدیہ نقدی کی صورت میں بھی دیا جا سکتا ہے اور طعام کی صورت میں بھی۔فدیہ کی رقم تین طرح خرچ کی جاسکتی ہے : (اوّل) اپنے ماحول کے غرباء اور مساکین میں۔( دوم ) ربوہ کے مساکین کے لئے مرکز میں بھجوا کر۔اور ( سوم ) قادیان کے غریب درویشوں کی مد میں ادا کر کے۔جن میں سے آج کل کئی انتہائی تنگی میں گزارہ کر رہے ہیں۔پس فدیہ دینے والے اصحاب قادیان کے غریب درویشوں کو بھی ضرور یاد رکھ کر ثواب کمائیں۔گو بہر حال ان تینوں قسم کے مصارف کے علیحدہ علیحدہ فوائد اور ان کی علیحدہ علیحدہ برکات ہیں۔فدیہ کے متعلق یہ بات بھی یادرکھنی چاہئے کہ گو اصل مسئلہ کے لحاظ سے فدیہ صرف ان لوگوں پر واجب