مضامین بشیر (جلد 3) — Page 422
مضامین بشیر جلد سوم 422 دوست رمضان کی برکات سے فائدہ اٹھائیں نوافل، ذکر الہی اور دعائیں اور فدیہ کا صحیح مصرف آج سے رمضان کا مبارک مہینہ شروع ہو رہا ہے۔جو روزوں کے علاوہ نوافل اور دعاؤں اور ذکر الہی اور صدقہ و خیرات کا خاص مہینہ ہے اور اس میں کلام پاک کی تلاوت کا بھی زیادہ اہتمام کیا جاتا ہے۔یہ عبادتیں ایسی ہیں کہ انہیں ملحوظ رکھ کر رمضان گزارنے والے انسان کے لئے (بشرطیکہ اس کی نیت صالح اور پاک ہو اور اس میں کوئی پہلور یا وغیرہ کا نہ پایا جاوے) ناممکن ہے کہ وہ اس مبارک مہینہ کی برکات سے حصہ نہ پائے۔اور خدائے رحیم و کریم کے دربار سے خالی ہاتھ لوٹ جائے۔بلکہ ہر شخص اپنی نیت اور اپنے مجاہدہ کے مطابق پھل پاتا ہے اور محروم صرف وہی شخص رہتا ہے جس کی یا تو نیت میں فتور ہے اور یا اس کی سعی و جہد ناقص ہے۔پس دوستوں کو چاہئے کہ اس مبارک مہینہ کو ان تمام برکات سے معمور کرنے کی کوشش کریں جو میں نے اوپر بیان کی ہیں۔یعنی : ( 1 ) مسنون طریق پر روزہ رکھیں جو رمضان کی اصل اور بنیادی عبادت ہے اور جس کے متعلق خدا فرماتا ہے کہ اس کی جزاء میں خود ہوں۔(2) فرض نمازوں کے علاوہ فل نمازوں پر بھی زیادہ زور دیں۔جن میں دو نماز میں خاص طور پر اہم ہیں۔یعنی نماز تہجد اور نماز ضحی۔(3) دعاؤں میں بڑھ چڑھ کر شغف دکھائیں اور انفرادی اور خاندانی دعاؤں کے علاوہ جماعتی دعاؤں کو بھی ہرگز نہ بھولیں بلکہ انہیں مقدم کریں۔جن میں اسلام اور احمدیت کی ترقی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر درود، حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کی صحت اور درازی عمر، مبلغین سلسلہ کی کامیابی و کامرانی ، دیگر کارکنان جماعت کی نصرت اور سلامت روی، قادیان اور ربوہ کی حفاظت اور استحکام کو خصوصیت سے ملحوظ رکھا جائے۔دعاؤں کے متعلق مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ نہیں بھولتے الدُّعَاءُ مُخُ الْعِبَادَةِ یعنی دعا عبادت کے لئے گویا گودے کا حکم رکھتی ہے۔جس طرح گودہ کے بغیر ایک ہڈی انسانی خوراک کے لحاظ سے ایک بیکاری چیز ہوتی ہے اسی طرح وہ عبادت بھی ایک بے جان عبادت ہے جس میں دعا شامل نہ ہو۔(4) ذکر الہی پر بہت زور دیا جائے اور نماز کے علاوہ دیگر اوقات کو بھی اس ذکر سے معمور رکھا جائے۔