مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 399 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 399

مضامین بشیر جلد سوم 399 وقت پر چھوڑ دیا جائے۔جب اس کا وقت آئے گا ( خدا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی صحت اور عمر میں زیادہ سے زیادہ برکت دے ) تو اس وقت جسے خدا چاہے گا اسے اپنے خاص تصرف سے مومنوں کی زبان پر حق جاری کر کے خلیفہ بنادے گا۔خواہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان سے ہویا کہ کسی اور اہل شخص کی صورت میں ہو۔کیونکہ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي وَلَا يَضِلُّ رَبِي وَلَا يَنْسى یہی وہ سچا فلسفہ ہے جس کی طرف حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض مضامین میں یہ کہ کر توجہ دلائی ہے کہ جب آئندہ خلافت کا وقت آئے گا تو خدا تعالیٰ خودلوگوں کی گردنیں اپنے منظور نظر شخص کی طرف جھکا دے گا اور کوئی طاقت اسے روک نہیں سکے گی۔پس میرے خیال میں ملک محمد حسن صاحب کا یہ استدلال ایک بے وقت استدلال ہے جس کی اشاعت کی ضرورت نہیں تھی اور موجودہ وقت میں وہ بعض کمزور طبع لوگوں کے لئے بدگمانی اور فتنہ کا موجب بھی ہوسکتا ہے جس سے اجتناب لازم ہے۔باوجود اس کے میں غالباً اس معاملہ میں پھر بھی کچھ نہ لکھتا کیونکہ یہ ایک مخلص دوست کا ذاتی استدلال ہے۔وَلِكُلّ أَن يَسْتَدِلَّ۔لیکن چونکہ اس کے متعلق مجھ سے بعض لوگوں نے دریافت کیا ہے اور انہیں اس استدلال کی اشاعت بے وقت نظر آئی ہے اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس مختصر نوٹ کے ذریعہ اس معاملہ میں امکانی غلط فہمی کا ازالہ کر دوں۔ہمارے دوستوں کے لئے یہ اصولی نکتہ کافی ہے کہ باوجود ظاہری انتخاب کے خلیفہ در اصل خدا بناتا ہے اور خدا اسی شخص کو خلیفہ بناتا ہے جو خدا کے علم میں خلافت کا اہل ہوتا ہے اور بس۔نوٹ: جس طرح ملک حسن محمد صاحب کی تعبیر ذوقی تھی اسی طرح حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی کا مضمون بھی ذوتی ہے۔نیز حضرت میاں صاحب مدظلہ کا یہ تحریرفرمانا کہ خلیفہ خدا بنایا کرتا ہے ملک حسن محمد صاحب کی تعبیر کے خلاف نہیں کیونکہ مکرم ملک صاحب نے ایک ایسی خواب کی طرف توجہ دلائی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے دکھائی تھی۔پس اگر مکرم ملک صاحب کی تعبیر صحیح ہو تب بھی خلیفے خدا ہی بنائے گا۔(ادارہ) روزنامه الفضل ربوہ 13 دسمبر 1956ء)