مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 400 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 400

مضامین بشیر جلد سوم رساله شرح القصيده 400 محتر می مولوی جلال الدین صاحب شمس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس مشہور عربی قصیدہ کی شرح لکھی ہے جو يَا عَيْنَ فَيُضِ اللَّهِ وَالْعِرْفَان سے شروع ہوتا ہے۔یہ قصیدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (فداہ نفسی کی مدح میں ہے اور حقائق و معارف اور عشق رسول کے عدیم المثال جذبات سے معمور ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص اس قصیدہ کو پڑھے گا اور اسے یاد کرے گا اس کے حافظہ اور محبت رسول کے جذبہ میں برکت عطا کی جائے گی۔میں تو جب بھی اس قصیدہ کے اشعار کو پڑھتا ہوں تو دل و دماغ میں عجیب روحانی لذت محسوس کرتا ہوں اور اس کے پڑھنے سے اس اتھاہ اور مواج سمندر پر غیر معمولی روشنی پڑتی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں اپنے آقا حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں موجزن تھا۔دوستوں کو چاہئے کہ نہ صرف اس رسالہ کو خود خرید کر پڑھیں بلکہ اپنے غیر احمدی احباب میں بھی کثرت سے تقسیم کریں۔تاکہ ان کے دل سے وہ غلط فہمیاں دور ہوں جو بد قسمتی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور جماعت احمدیہ کے متعلق پیدا ہورہی ہیں۔خدائے بزرگ و برتر محتر می شمس صاحب کو جزائے خیر دے کہ انہوں نے ایک عدیم المثال عربی قصیدہ کا اردو میں ترجمہ کر کے اور پھر اس کی شرح لکھ کر اس کے محاسن کو اردو دان پبلک کے قریب تر کر دیا ہے۔روزنامه الفضل ربوہ 21 دسمبر 1956ء) اعلانات۔اشتہارات۔اطلاعات جو کتاب کا حصہ نہیں بنے تاہم ان کی فہرست معہ حوالہ یہاں دی جارہی ہے۔تا اگر کوئی استفادہ کرنا چاہے یہاں سے دیکھ کر کر سکتا ہے۔1-> احباب کرام سے خاص دعا کی تحریک روزنامه الفضل ربوہ 13 جنوری 1956ء) 2- چنده امداد درویشاں کے لئے خاص اپیل دوست اس کارخیر کی طرف فوری توجہ فرمائیں روزنامه الفضل ربوہ 20 جنوری 1956ء) 3-> تازه فهرست چنده امداد درویشاں وغیرہ یہ وقت خاص امداد کا ہے روزنامه الفضل ربوہ 23 جنوری 1956ء)