مضامین بشیر (جلد 3) — Page 395
مضامین بشیر جلد سوم 395 وَكُلُّ أَمْرٍ مُبَارَكٌ يُجْعَلُ فِيْهِ - (2) حضرت یح موعود علیہ اسلام کی بیت الدعاج دار اسی میں حضور ے رہائشی کمرے کے ساتھ ہے۔اور (3) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقدس مزار۔ان تین خاص جگہوں کے علاوہ اگر کسی کو مسجد اقصیٰ ( مینار والی ) میں بھی دعا کا موقع مل سکے تو وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک مقدس یادگار ہے۔دعائیں جماعتی اور انفرادی دونوں رنگ کی کی جائیں۔گو بہر حال سچے مومن ہمیشہ جماعتی دعاؤں کو مقدم کیا کرتے ہیں اور ہر دعا کو سورۃ فاتحہ اور درود شریف کے ساتھ شروع کرنا ایک بڑا مبارک طریق ہے۔دعاؤں کے علاوہ دوستوں کو چاہئے کہ سفر کے دوران میں اور قادیان کے قیام کے ایام میں اسلام اور احمدیت کا اچھے سے اچھا نمونہ قائم کریں۔کیونکہ ملی تبلیغ ، قولی تبلیغ سے بھی زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔نیز جو چند دوست مل کر ا کٹھے سفر کریں انہیں دوران سفر میں مسنون طریق پر اپنے میں سے کسی شخص کو اپنا امیر بھی مقرر کر لینا چاہئے اور قادیان کے امیر تو مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل پہلے سے مقررہی ہیں جن کی ہر امر میں اطاعت ہونی چاہئے۔نیز اگر قادیان جانے والوں میں کوئی مستورات بھی ہوں تو ان کے لئے لازم ہے کہ کسی مر در فیق کے بغیر کیلی نہ جائیں بلکہ اگر ان کا کوئی رشتہ دار ساتھ نہ ہو تو جانے والے احمدی احباب میں سے کسی مخلص احمدی کی رفاقت اختیار کرلیں۔اللہ تعالیٰ سب بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ہو اور ان کا حافظ و ناصر رہے اور انہیں قادیان کی برکات سے زیادہ سے زیادہ متمتع ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین (محررہ 7اکتوبر 1956ء) روزنامه الفضل ربوہ 10اکتوبر 1956ء) مقدس مقامات قادیان کی مرمت کے لئے چندہ کی اپیل قادیان سے اطلاع ملی ہے کہ اس سال اور گزشتہ چند سالوں کی غیر معمولی بارش کی وجہ سے نیز اس وجہ سے کہ ہندوستان کی حکومت نے کچھ عرصہ سے قادیان کی زمینوں میں نہر کا پانی لگانا شروع کر دیا ہے۔قادیان میں سیم کی سی کیفیت پیدا ہورہی ہے۔جس کی وجہ سے کنوؤں کا پانی بہت اونچا ہو گیا ہے اور تھوڑا گڑھا