مضامین بشیر (جلد 3) — Page 360
مضامین بشیر جلد سوم 360 ہیں جو افراد اور قوموں کے درمیان پائے جاتے ہیں۔اور النفتِ فِي الْعُقَدِ سے مراد ایسی فتنہ پیدا کرنے والی ہستیاں ہیں جو انسانی تعلقات کو بگاڑتی اور پاکیزہ رابطوں کو تباہ کرتی اور معاہدات میں رخنہ ڈالتی اور بندھی ہوئی فطری گر ہوں کو کاٹ کر رکھ دیتی ہیں۔بالآخر مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَد کے الفاظ فرما کر ایسے لوگوں کے فتنہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو دوسرے لوگوں کی ترقی اور خوش حالی کو دیکھ کر حسد میں جلتے اور مستحق لوگوں کی ترقی میں روڑے اٹکاتے ہیں۔اب دیکھو کہ کس طرح ان مختصر الفاظ میں دنیا بھر کے خطرات کو شامل کر کے رَبِّ الْفَلَق سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے کیونکہ وہ تمام مخلوق کا آتا ہے اور کوئی چیز خواہ وہ کتنے ہی زہریلے اثرات کے ساتھ ہمیں نقصان پہنچانے کے لئے آگے آئے ہمیں اس کی حفاظت میں ہوتے ہوئے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔وہ نور اور روشنی کا منبع ہے اور اگر کوئی انسان اپنے دن کی روشنی کو رات کی تاریکی میں بدل دے یا اپنی قسمت کے چاند کو گرہن کے داغ میں چھپا دے تو پھر بھی وہ اس تاریکی کو دور کرنے اور اس داغ کو دھونے کی طاقت رکھتا ہے۔وہ ان فتنہ پرداز لوگوں کی شرارتوں اور فتنہ انگیزیوں پر بھی آگاہ ہے جو نیک اور شریف لوگوں کے پیچھے لگ کر ان میں انشقاق و افتراق پیدا کرتے اور محبت و اتحاد کے تعلقات کو بگاڑتے اور انفرادی اور قومی معاہدات میں رخنہ پیدا کرتے ہیں اور بالآخر وہ ان حاسدوں کو بھی دیکھ رہا ہے جو ترقی کرنے والے لوگوں کے رستہ میں روڑے اٹکاتے ہیں اور وہ ان کے حسدوں کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔یہ لطیف سورۃ ان سب قسم کے خطرات کے مقابل پر ایک نہایت طاقتور تعویز پیش کرتی ہے۔اور کیا ہی بدقسمت ہے وہ شخص جو اس تعویذ کی طرف سے غافل رہ کر خود اپنی تباہی کا بیج بوتا ہے۔آخری سورۃ یعنی سورۃ الناس میں شیطانی وساوس اور شیطانی خطرات کے مقابلہ پر خدا کی ان تین صفات کو چنا گیا ہے جن کی طرف سے غافل ہونا انسان کو شیطان کا شکار بناتا اور اسے اس کے آسمانی آقا سے دور پھینک دیتا ہے۔ان میں پہلی صفت رَبِّ النَّاسِ ہے جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ خدا ہی ہے جو انسان کو دینی اور دنیوی رزق مہیا کرتا اور اس کی ترقی کے سامان پیدا کرتا ہے۔اس کے بعد دوسرے نمبر پر صفت مَلِكِ النَّاس بیان کی گئی ہے۔جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان پر اصل حکومت خدا کی ہے اور حقیقی بادشاہت صرف اسی کو حاصل ہے۔وہ انسان کو صرف پیدا کرنے اور رزق دینے والا ہی نہیں ہے بلکہ اس پر دائمی حاکم اور اس کی تقدیر خیر وشر کا بھی وہی مالک ہے۔تیسری صفت اله الناس بیان کی گئی ہے۔یعنی جب خدا ہی انسان کا خالق و رازق ہے اور وہی اس کا حقیقی حکمران ہے تو پھر یہ اسی کا حق ہے کہ انسان اس کی