مضامین بشیر (جلد 3) — Page 359
مضامین بشیر جلد سوم 359 خطرات کا مرکزی نقطہ صرف شیطانی روح ہے جو بندے اور خدا کے درمیان جدائی ڈالنے کے لئے کلیتہ وقف ہے۔اس لئے سورہ الناس میں اسی کے ذکر پر اکتفا کی گئی ہے۔اور چونکہ یہ خطرات خدا تعالیٰ کی تین مخصوص صفات سے غافل رہنے کے نتیجہ میں پیدا ہوا کرتے ہیں اس لئے ان کے مقابل پر ان تین صفات کا ذکر ضروری سمجھا گیا ہے۔جو رَبِّ النَّاس اور مَلِكِ النَّاس اور الہ الناس کے الفاظ میں مذکور ہیں۔یعنی اول اس کی صفت ربوبیت یعنی رزاقیت اور پروردگاری۔دوم اس کی صفت ملکیت یعنی حکومت و اقتدار اور سوم اس کی صفت الوہیت یعنی معبودیت۔شیطان ہمیشہ ان تین الہی صفات پر حملہ کر کے یا دوسرے لفظوں میں انسان کو ان تین صفات کی طرف سے غافل کر کے ہی بندوں کے دین وایمان کو بگاڑا کرتا ہے۔جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا ہے سورۃ فلق میں فلق کا لفظ بہت سے معنی دیتا ہے مگر ان میں سے چار معنی زیادہ مشہور و متعارف ہیں۔(اول) تمام مخلوقات ( دوم ) نور سحر یعنی صبح کی روشنی ( سوم ) مشکلات کو دور کرنے کی طاقت اور (چہارم ) دو بلندیوں کے درمیان کی پستی اس جگہ یہ چاروں معنی ہی چسپاں ہوتے ہیں اور مراد یہ ہے کہ میں پناہ لیتا ہوں اس خدا کی جو تمام مخلوقات کا خدا ہے اور کوئی چیز اس کی حکومت سے باہر نہیں۔اس لئے وہ اپنی مخلوق کے ہر شر کو مٹانے کی طاقت رکھتا ہے۔میں پناہ لیتا ہوں اس خدا کی جو ہر نور کا منبع ہے اور کوئی تاریکی اس نور کے مقابل پر ٹھہر نہیں سکتی۔میں پناہ لیتا ہوں اس خدا کی جو ہر مشکل اور ہر مصیبت اور ہر الجھن کو دور کرنے کی طاقت رکھتا ہے اور میں پناہ لیتا ہوں اس خدا کی جو ہر قسم کی پستی پر غالب اور ہر نشیب کو بلندی میں بدلنے پر قادر ہے۔اس کے مقابل پر خطرات کے لحاظ سے شَرِّ مَا خَلَقَ سے ہر وہ خطرہ مراد ہے جو مختلف قسم کی مخلوقات کے نقصان رساں پہلوؤں سے پیدا ہوسکتا ہے اور ہر چیز کے غلط استعمال کا نتیجہ بن جاتا ہے اور غَاسِقٍ کے معنی رات کے بھی ہیں اور چاند کے بھی ہیں اور وقب کے معنے رات کی تاریکی کے بڑھ جانے یا چاند کو گرہن لگنے کے ہیں۔اس طرح مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ سے مراد یہ ہے کہ میں پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میرے دن کی روشنی رات کے اندھیرے میں بدل جائے۔یا میری تقدیر کے چاند کو گرہن لگ جائے۔اس کے بعد نفائات کے لفظی معنی پھونکیں مارنے والی ہستیوں کے ہیں۔اور عُقد کے معنی ان تعلقات اور رابطوں کے