مضامین بشیر (جلد 3) — Page 361
مضامین بشیر جلد سوم 361 عبادت کرے اور اسے چھوڑ کر کسی اور کو اس کا شریک نہ بنائے۔یہ وہ صفات ثلاثہ ہیں جن کے ذریعہ ہمیں قرآن مجید کی آخری سورۃ میں شیطان کے حملوں اور دینی خطرات سے پناہ مانگنے کی تلقین کی گئی ہے۔ان تین صفات کے مقابل پر اللہ تعالیٰ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ کا ذکر فرماتا ہے۔وَسْوَاسِ کے معنی وسوسہ پیدا کرنے والے شیطان کے ہیں۔جس کے ساتھ خَنَّاس کا لفظ زیادہ کر کے ، جس کے معنی حملہ کر کے پیچھے ہٹ جانے والے کے ہیں۔ہمیں ہوشیار کیا گیا ہے کہ شیطان کے متعلق یہ نہ سمجھو کہ وہ ظاہر وعیاں ہو کر تم پر حملہ کرے گا بلکہ جیسا کہ اس نے تمہارے جد امجد حضرت آدم کے ساتھ کیا۔وہ فطرتاً خفیہ رنگ میں آگے آنے اور پھر حملہ کر کے جلدی سے پیچھے ہٹ جانے کا عادی ہے۔اور اس حقیقت کو زیادہ نمایاں کرنے کے لئے اس کے بعد الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ کے الفاظ رکھے گئے ہیں۔تا یہ اشارہ کیا جائے کہ وساوس کا اصل صدر مقام انسان کا دل وسینہ ہے۔پس جب تک اپنے اندر تقویٰ اللہ پیدا کر کے جس کا صدر مقام بھی دل ہے شیطانی وساوس کی روک تھام نہ کی جائے، انسان شیطانی حملوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔لہذا ہمیں چاہئے کہ شیطان کے حملوں سے بچنے کے لئے خدا کی صفت ربوبیت اور اس کی صفت ملکیت اور اس کی صفت الوہیت کے ساتھ چمٹے رہیں۔کیونکہ شیطان لعین و رجیم کو یہ طاقت حاصل نہیں کہ وہ ان طاقتور جبروتی صفات کے سامنے آسکے۔وہ ازلی بزدل جس کا نام خناس رکھا گیا ہے خدا کے نام سے بھاگتا ہے۔مگر چونکہ وہ مخفی حملہ کرتا ہے اس لئے بعض اوقات نیک لوگ بھی حضرت آدم کی طرح وقتی طور پر شیطان کے حملہ کا شکار ہو جاتے ہیں۔لیکن جس طرح خدا نے آج سے چھ ہزار سال پہلے آدم کو شیطان کے حملہ سے بچنے کے لئے اپنی بعض خاص صفات کا علم دیا تھا جس کے نتیجہ میں آدم بالآخر اس حملہ سے محفوظ ہو کر دوبارہ جنت ارضی میں داخل ہو گیا تھا۔اسی طرح قرآن کی اس آخری سورۃ میں خدا مسلمانوں کو اپنی ان تین خاص صفات کا علم دے رہا ہے۔جو شیطان سے محفوظ رہنے کے لئے ضروری ہیں۔یعنی رَبِّ النَّاس اور مَلِكِ النَّاس اور الهِ النَّاس۔اگر انسان ان تین صفات الہیہ کے ساتھ پختہ رشتہ جوڑے تو کوئی شیطانی طاقت اسے خدا سے جدا نہیں کر سکتی۔وہ کسی کو اپنا رب اور رازق نہ سمجھے مگر خدا کو وہ کسی کو اپناما لک اور حکمران نہ سمجھے مگر خدا کو۔اور وہ کسی کو اپنا معبود نہ سمجھے مگر خدا کو۔یہ وہ زبر دست تعویذ ہے کہ جو ہر قسم کے ظاہری اور مخفی اور قولی اور فعلی شرک کو جڑ سے کاٹ کر رکھ دیتا ہے اور انسان کو ایسے قلعہ میں پہنچا دیتا ہے جس میں کوئی شیطانی طاقت نقب نہیں لگا سکتی۔سب سے آخر میں منَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ کے الفاظ فرما کر اشارہ کیا گیا ہے کہ شیطانی تاثیرات اور