مضامین بشیر (جلد 3) — Page 305
مضامین بشیر جلد سوم 305 کرب کی حالت میں گزارتا تھا۔مگر اب چند دن سے حضرت خلیفہ اصیح ایدہ اللہ اور احباب جماعت کی دعاؤں سے اس تکلیف میں بھی خدا کے فضل سے کافی افاقہ ہے۔گواب بھی کوئی فکر یا غم کی خبر سننے یا زیادہ ملاقات کرنے یا تھکان یا معدہ کی خرابی کی وجہ سے گھبراہٹ پیدا ہونے لگتی ہے۔لیکن گزشتہ حالت کی نسبت خدا کے فضل سے قریباً پچاس فیصدی افاقہ ہے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ اس بیماری میں حضرت خلیفتہ اسی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو اپنی علالت کے باوجود میری صحت کے متعلق فکر رہا ہے۔چنانچہ دعا کے علاوہ حضور بعض ادویہ بھی تجویز فرماتے رہے ہیں۔فَجَزَاهُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَة۔چند دن ہوئے جب میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں اپنی تکلیف میں افاقہ ہونے کے متعلق اطلاع دی۔تو حضور نے اپنے مکتوب محررہ 16 اگست میں تحریر فرمایا کہ۔" آپ کا خط ملا۔الحمد للہ کہ آپ کی طبیعت پہلے کی نسبت بہتر ہے۔تین دن ہوئے سیر کر کے آیا۔چیمہ صاحب مجھے دبا رہے تھے۔تو میں نے جاگتے ہوئے نظارہ دیکھا کہ آپ سامنے ٹہل رہے ہیں اور ہشاش بشاش ہیں اور سوٹی کا ہینڈل پکڑ کر پیچھے کی طرف لٹکایا ہوا ہے۔دوسرے دن ہی خط ملا جس سے معلوم ہوا کہ آپ کی طبیعت پہلے سے بہتر ہے۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو بھی یہ رویا سنادی گئی تھی۔اس کشف میں ہشاش بشاش دیکھنے کی تعبیر تو ظاہر ہی ہے کہ اس سے صحت اور راحت مراد ہے۔لیکن یہ جو رویا میں سوئی کا ہینڈل عقب یعنی پشت کی طرف دیکھا گیا اس سے میرے خیال میں یہ مراد معلوم ہوتی ہے کہ خدا کے فضل و کرم سے اور رسول پاک کے قدموں کی طفیل اس خاکسار کی عاقبت میری اولیٰ سے بہتر ہو گی اور یہ وہی آرزو ہے جس کے لئے میں اپنے احباب سے کئی دفعہ دعا کی تحریک کر چکا ہوں۔سواللہ تعالیٰ کے فضل سے بعید نہیں کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی رڈیا کے مطابق اس خاکسار کا انجام بخیر ہو اور بقیہ زندگی گزشتہ زندگی سے زیادہ خادمانہ رنگ میں اور زیادہ با برکت طریق پر گزرے۔وَ ذَالِكَ ظَنِّى بِاللَّهِ وَ أَرْجُوا مِنَ اللَّهِ خَيْراً اس وقت میری اہلیہ ام مظفراحمد بھی ہائی بلڈ پریشر اور گھبراہٹ اور کرب کی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ان کے لئے بھی دعا فرمائی جائے اور سب سے مقدم تو حضرت خلیفہ اُسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی صحت اور درازی عمر کی دعا ہے۔جن کی زندگی کے ساتھ اسلام کی ترقی کے بہت سے شاندار وعدے وابستہ ہیں۔محرره 21 اگست 1955ء) (روز نامه الفضل 25 اگست 1955ء)