مضامین بشیر (جلد 3) — Page 306
مضامین بشیر جلد سوم 306 محترم حکیم فضل الرحمن صاحب کی وفات پر تعزیتی پیغام حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت حکیم فضل الرحمن صاحب کی وفات پر ان کے صاحبزادے مکرم عبدالوہاب کو تعزیتی خط تحریر فرمایا۔جس میں نصیحت تحریر فرمایا۔خدا تعالیٰ کی تقدیر تو پوری ہو چکی۔اب یہ کام ہے کہ صبر ورضا سے کام لیں خدا تعالیٰ کی طرف جھکیں اگر آپ اس کے دامن کے ساتھ لیٹے رہے تو وہ یقینا آپ کو ضائع نہیں کرے گا۔محرره 28 اگست 1955ء)۔۔۔۔۔۔۔۔۔روزنامه الفضل 31 اگست 1955ء) آسان صاحب دہلوی کی وفات پر ایک مختصر نوٹ اور بعض بیمار دوستوں کیلئے دعا کی تحریک آج کے الفضل سے ماسٹر حسن محمد صاحب آسان دہلوی کی وفات کا علم ہوا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - آسان صاحب مرحوم کو میں ایک عرصہ سے جانتا تھا۔نہایت مخلص اور زندہ دل بزرگ تھے۔اور مجلس میں گفتگو کا خاص بکش انداز رکھتے تھے۔جس کی وجہ سے ان کی حاضر جوابی کے سامنے اکثر ذو علم اصحاب کو بھی لا جواب ہونا پڑتا تھا۔شگفتہ مزاج ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت نیک اور سلسلہ احمدیہ کے لئے خاص اخلاص اور قربانی کا جذبہ رکھتے تھے۔ان کے بہت سے بچے اسلام اور احمدیت کی خدمت کے لئے وقف ہیں۔جو انشاء اللہ ان کے لئے قیامت کے دن ایک تاج بن کر زینت کا موجب ہوں گے۔اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل و رحمت کے سایہ میں جگہ دے اور ان کی اولاد کا دین و دنیا میں حافظ و ناصر ہو۔آمین۔آسان صاحب مرحوم ہمارے خاندان کے بہت سے بچوں کے استاد تھے۔جن میں میری چھوٹی لڑکی امتہ اللطیف سلمہا بھی شامل تھی۔۔کچھ عرصہ ہوا میں نے چند بیمار دوستوں کے لئے دعا کی تحریک کی تھی۔ایسے اصحاب کے لئے دعا کرنا ایک قومی فریضہ ہی نہیں۔بلکہ خود دعا کرنے والے کے لئے بھی برکت کا موجب ہے۔میں نے اور دوستوں کی وفات کے ذکر کے ساتھ ان دوستوں کے لئے دعا کی تحریک کو اس لئے شامل