مضامین بشیر (جلد 3) — Page 304
مضامین بشیر جلد سوم 304 اس وقت جماعت کے بہت سے مخلصین بہت بیمار ہیں اور بعض کی حالت تشویشناک ہے۔چونکہ مومن ایک دوسرے کے لئے سہارا ہوتے ہیں اور اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مومنوں کی مثال انسانی جسم کی طرح ہے۔اگر انسان کا کوئی عضو بیمار ہو تو سارا جسم دکھ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔لہذا میں ذیل کے مخلصین کے لئے احباب جماعت کی خدمت میں خاص تحریک کرتا ہوں کہ وہ ان کی شفایابی کے لئے خصوصیت سے دعا کریں۔( محررہ 15 اگست 1955ء) (روز نامہ الفضل 18 اگست 1955ء) 36 کچھ اپنی صحت کے متعلق حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا ایک مبشر رویا محترمی ناظر صاحب دعوة وتبلیغ ربوہ نے الفضل میں دعا کی تحریک کے لئے میری صحت کی رپورٹ مانگی ہے۔میں اس مہربانی کی وجہ سے ان کا ممنون ہوں۔جَزَاهُ اللهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ۔گو میں نے عموماً اپنے واسطے کبھی علیحدہ تحریک کی خواہش نہیں کی۔کیونکہ ایک تو میں جانتا ہوں کہ جماعت کے مخلصین حضرت مسیح موعودؓ کے خاندان کے لئے دعا کرتے ہی ہیں۔دوسرے موجودہ حالات میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایده اللہ بنصرہ العزیز اور جماعت کے لئے دعا میں دراصل ہم سب شامل ہو جاتے ہیں۔لیکن چونکہ محترم ناظر صاحب نے اصرار کیا ہے۔اس لئے یہ چند سطور لکھ رہا ہوں۔گزشتہ سال دل کی بیماری کے شدید دورے کے بعد مجھے خدا کے فضل سے ماہ اکتوبر میں کافی آرام آ گیا تھا۔چنانچہ گزشتہ سردیوں میں کچھ کام کی بھی توفیق ملتی رہی۔لیکن اس کے بعد گرمیوں کے آغاز پر پھر طبیعت خراب رہنے لگی اور بلڈ پریشر بڑھ گیا اور کمزوری بھی زیادہ ہوگئی۔چنانچہ اس عید الفطر کے بعد مجھے پھر علاج کے لئے لاہور آنا پڑا۔یہاں آکر مجھے تین چار ہفتوں کے علاج کے بعد خدا کے فضل سے بلڈ پریشر اور نبض کی تیزی میں تو خاطر خواہ افاقہ ہو گیا مگر کمزوری کے لحاظ سے زیادہ فرق نہیں پڑا اور ایک مزید تکلیف یہ پیدا ہوگئی کہ سخت اعصابی تکلیف شروع ہوگئی اور رات اور دن کے اکثر حصوں میں شدید قسم کی گھبراہٹ اور بے چینی رہنے لگی۔جس کی وجہ سے بعض اوقات لیٹنا اور بیٹھنا تک مشکل ہو جا تا تھا اور اکثر وقت ٹہل ٹہل کر