مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 303 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 303

مضامین بشیر جلد سوم 303 اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔حضرت اماں جان کا اماں جی سے ہنسنا بولنا چھیڑ نا بہت یاد آتا ہے اور میری آنکھوں کے سامنے گویا ایک تصور بندھ جاتا ہے۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت اماں جان نے اپنی قلبی کیفیت کا ان مختصر الفاظ میں ذکر کیا کہ دل کو چین نہیں آتا۔زندگی کا مزہ نہیں رہا اور اس وقت حضرت اماں جان نے ایک شعر بھی پڑھا۔جس سے مراد یہ تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد یہ پہلا صدمہ ہے اور معلوم نہیں آگے چل کر کیا کیا حالات اور کیا کیا صدمات پیش آتے ہیں۔الغرض تسبیح کا ایک ایک دانہ گر رہا ہے اور سب پرانی یادگار میں رخصت ہورہی ہیں۔انسان ایک عمر تک ہی نیا ماحول پیدا کر سکتا ہے۔اس کی اصل دلچسپیاں اوائل عمر کے عزیزوں اور دوستوں کے ساتھ ہی وابستہ ہوتی ہیں۔اخلاقاً ملنے کو ہم سب سے ملتے ہیں مگر اپنا خاص حلقہ جوں جوں کم ہوتا جاتا ہے زندگی کے لطف میں کمی آتی جاتی ہے۔نئی نسلوں کے اپنے ماحول اور اپنی دلچسپیاں ہیں۔مگر ہم جب دیکھتے ہیں کہ پرانی زنجیر کی کڑیاں ٹوٹ ٹوٹ کر گرتی جارہی ہیں تو دل بہت اداس ہونے لگتا ہے۔آپ کی صحت کے لئے برابر دعا کرتی ہوں۔خدا حافظ و ناصر ہو۔والسلام مبارکہ ہمشیرہ کے اس مختصر خط نے میرے دل میں بعض پرانی یادوں کی تاروں کو اس طرح جنبش دی ہے کہ گویا دل و دماغ پر ایک زلزلہ وارد کر دیا ہے۔اللہ تعالی گزرنے والوں کی روحوں پر اپنی رحمت کا چھینٹادے اور ہمیں تمام نیک لوگوں کے نیک اوصاف کا وارث بننے اور خدا کی محبت اور دین کی خدمت میں اپنی زندگیاں گزارنے کی توفیق عطا کرے اور انجام بخیر ہو۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ (محررہ 10 اگست 1955ء) روزنامه الفضل 18 اگست 1955ء) بعض بیمار دوستوں کے لئے دعا کی تحریک حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے درج بالا عنوان کے ماتحت بعض دوستوں کے لئے دعا کی تحریک فرمائی۔اس کے آغاز پر نصیحت یہ فقرات درج فرمائے۔