مضامین بشیر (جلد 3) — Page 302
مضامین بشیر جلد سوم 302 میں نے اس اندوہناک اطلاع کے ملتے ہی عزیزہ مکرمہ ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ ( بیگم نواب محمد علی خان صاحب مرحوم ) حال مقیم کو ہاٹ کو خط کے ذریعہ اطلاع بھجوا دی تھی۔تا وہ بھی اس موقع پر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے صاحبزادگان کو ہمدردی کا خط لکھ کر اپنے قلبی جذبات کا اظہار کر سکیں۔میری اس اطلاع کے جواب میں ہمشیرہ کا جو خط میرے پاس آیا ہے۔اسے میں بھائیوں اور بہنوں کی اطلاع کے لئے درج ذیل کرتا ہوں۔تا اس ذریعہ سے احباب کے دل میں محبت اور قدر دانی کے جذبات ابھر سکیں اور وہ مرنے والی روحوں کو اپنی دعاؤں کے ذریعہ ثواب پہنچا سکیں۔ہماری ہمشیرہ کو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے بہت محبت کرنے والا وفادار دل دیا ہے اور انہیں پرانی باتیں بھی بہت یاد ہیں۔گوحق تو یہ ہے کہ ماضی زمانہ کی دلکش یاد اگر ایک بھی ہو تو دل کو گرمانے اور روح میں خاص کیفیت پیدا کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔بہر حال ہمشیرہ کے خط کی نقل معمولی لفظی تبدیلی کے ساتھ درج ذیل کی جاتی ہے۔السلام علیکم۔آپ کا خط ملا۔میاں عزیز احمد صاحب کی تار سے اماں جی کی وفات کی اطلاع مل گئی تھی۔ہم سب نے یہاں سے ہمدردی کے تار بھی دے دیئے اور سب صاحبزادوں کے نام ہمدردی کا اکٹھا خط بھی لکھ دیا تھا۔دل پر اس صدمہ کا گہرا اثر ہوا ہے۔کل سے طبیعت بار بار خراب ہو رہی ہے۔بچپن کے سارے زمانے اور ان بزرگوں کے قدیم حالات کے نقشے آنکھوں میں پھر رہے ہیں۔مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے ہر روز صبح حضرت خلیفہ اول کا حال اور خیریت بتانے کا خاص حکم تھا اور حضرت مسیح موعود ہر روز پوچھتے تھے کہ مولوی صاحب کو ناشتہ ٹھیک ملا تھا یا نہیں ؟ صغری ( یعنی اماں جی ) نے کسی بات میں ستایا تو نہیں؟ گھر میں کوئی شکایت تو پیدا نہیں ہوئی؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حضرت خلیفہ اول سے بہت محبت تھی اور ان کے آرام کا خاص خیال رہتا تھا اور اس بات کا حضرت خلیفہ اول اور اماں جی دونوں کو علم تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھ سے روزانہ پوچھتے ہیں اور میں بتاتی ہوں۔اسی بناء پر حضرت خلیفہ اول بھی گوی با قاعدہ رپورٹ دیا کرتے تھے اور کبھی کبھی محبت اور بے تکلفی کے رنگ میں کچھ شکایت بھی کر دیتے تھے۔مگر یہ خدا کی بندی (حضرت اماں جی ) ذرہ بھر بُرا نہ مانتیں۔بلکہ بعض اوقات خود کہہ دیا کرتیں کہ آج مجھ سے فلاں غلطی ہوگئی ہے۔کبھی ایک دفعہ بھی میری طرف سے اس ڈیوٹی کے ادا کرنے پر بُری آنکھ یا غصہ کی نظر سے نہیں دیکھا۔اسی طرح آگے پیچھے بھی بے حد محبت سے پیش آتی تھیں۔