مضامین بشیر (جلد 3) — Page 292
مضامین بشیر جلد سوم 292 پختہ عہد کے ماتحت قائم ہوں کہ صرف اور خالصہ اور کلیۂ علمی اور مفید فلموں کا مظاہرہ کریں گی۔میں نے سنا ہے کہ یورپ اور امریکہ میں بعض ایسی کمپنیاں موجود ہیں۔پس کوئی وجہ نہیں کہ اس ملک میں بھی وہ قائم نہ کی جاسکیں۔شروع میں بے شک مشکل پیش آئے گی اور غالباً کچھ مالی نقصان بھی اٹھانا پڑے گا کیونکہ لمبی قائم شدہ بدمذاقی کا مقابلہ آسان نہیں ہوتا۔لیکن عزم اور حسن انتظام سے مناسب پراپیگنڈا کے ذریعہ بالآخر اس مشکل پر غلبہ پایا جا سکتا ہے اور یہ ایک بہت بڑی ملکی خدمت ہوگی۔جس کے ذریعہ قوم کے نو نہالوں کو تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچایا جا سکے گا۔میں تفریح یعنی Recreation اور Relaxation کی اہمیت کا ہرگز منکر نہیں۔بلکہ دن بدن اس کی ضرورت کا زیادہ قائل ہوتا جاتا ہوں۔ہماری زندگیاں اس قدر سنجیدہ اور تفکرات سے اتنی معمور ہیں کہ اگر جائز اور مفید تفریحات کا انتظام نہ کیا گیا تو کام کرنے والے لوگوں کے اعصاب تباہ ہو کر رہ جائیں گے۔اس لئے ہمارے سامنے یہ ایک اہم سوال ہے کہ اگر ہم ایک طرف سینما سے روک کرلوگوں کے اخلاق کو خراب ہونے سے بچائیں تو دوسری طرف ان کے لئے کسی نہ کسی رنگ میں مختلف مذاق کے لوگوں کے لئے جائز تفریح کا سامان بھی مہیا کریں۔بیشک یہ ایک مشکل کام ہے مگر ترقی کرنے والی قوموں کو مشکل مراحل میں سے بھی اپنا رستہ نکالنا ہی پڑتا ہے۔خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا اصل بات جو میں اپنے نوجوان عزیزوں (لڑکوں اور لڑکیوں) سے کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ آجکل کی سینما بینی ایک خطرناک زہر ہے۔وہ ہر حال میں اس سے بچیں ورنہ مارفیا کے عادی شخص کی طرح وہ ہر لمحہ اپنے دل و دماغ میں زہر بھرتے چلے جائیں گے اور گو اس کا مخفی نتیجہ ساتھ ساتھ بھی نکل رہا ہے۔مگر ظاہر نتیجہ اس وقت نکلے گا جب یہ زہر ان کے اخلاق اور روحانیت کو ماؤف اور معطل کر کے رکھ دے گا۔میں اپنی رو میں اپنی طاقت سے زیادہ لکھ گیا ہوں۔ورنہ میری موجودہ صحت چند سطروں سے زیادہ لکھنے کی اجازت نہیں دیتی۔دوست دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے صحت اور خدمت اور برکت کی زندگی عطا کرے اور اس قرآنی بشارت کے ماتحت جو ہمارے رسول کو اور حضور کی وساطت سے حضورہ کی امت کو دی گئی۔میری عاقبت اولی سے بہتر ہو۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ (محررہ 4 جولائی 1955 ء ) روزنامه الفضل 10 جولائی 1955ء)