مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 291 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 291

مضامین بشیر جلد سوم 291 سوا کچھ نہیں ہوتا کہ زہر کی گولی کھانڈ کے پردے میں لپیٹ کر زیادہ آسانی کے ساتھ حلق میں اتر جاتی ہے اور پھر معدہ کے اندر پہنچ کر لازما وہی کام کرتی ہے جو ایک زہر کیا کرتا ہے۔یا جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے۔یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایسی منافق اور دوغلی فلمیں اس شربت یا دودھ کے گلاس کا حکم رکھتی ہیں جس میں کچھ نجاست بھی ملا دی گئی ہو۔الغرض یہ وہ تین خاص وجوہات ہیں جن کے نتیجہ میں آجکل کی فلمیں اور آج کل کی سینما بینی اخلاقی اور روحانی لحاظ سے زہر قرار پاتی ہیں اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی ڈور بین آنکھ نے آج سے ہیں سال قبل اس کے اسی زہر کو دیکھ کر اس کی حرمت کا فتویٰ دیا تھا۔مگر افسوس ہے کہ جیسا کہ سنا جاتا ہے بعض احمدی نوجوان بھی سینما کی ملمع سازی سے دھوکا کھا کر اس میدان میں چور بازاری سے کام لے رہے ہیں اور داؤ لگا کر سینما جاتے رہتے ہیں۔وہ صرف اپنے پیسے ہی ضائع نہیں کرتے بلکہ اپنے امام کے بھی نافرمان ہیں۔جماعت کی تنظیم کو بھی توڑتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ایک زہر کھا رہے ہیں جو ان کے رگ وریشہ میں سرایت کر کے ان کے لئے بالآخر ہلاکت کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔بے شک جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے سینما اپنی ذات میں بُرا نہیں بلکہ ایک مفید اور علمی ایجاد ہے۔جس سے مختلف علوم کی ترقی میں بہت فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ اُس نجاست کے ڈھیر سے کس طرح نجات حاصل کی جائے جو موجودہ زمانہ کی بدمذاقی یا بداخلاقی نے اس کے اندر شامل کر دیا ہے؟ میری رائے میں فی الحال اس سوال کا جواب دو طرح ہو سکتا ہے۔اول۔یہ کہ بعض تعلیمی ادارے جنہیں توفیق ہو وہ ایک طرف موجودہ سینما کے نقصانات کو اپنے طلباء پر اچھی طرح واضح کریں اور بار بار کرتے رہیں اور دوسری طرف انہیں سینما بینی سے روک کر ان کے لئے سکولوں میں اپنی نگرانی کے ماتحت پروجیکٹڑوں کے ذریعہ ایسی مفید اور علمی فلموں کے دکھانے کا انتظام کریں جو مخرب اخلاق اور حیا سوز عناصر سے کلی طور پر پاک ہوں۔اس طرح بچوں کی تفریح کا انتظام بھی ہو جائے گا اور وہ نئی نئی مفید فلموں سے فائدہ بھی اٹھا سکیں گے۔مگر یہ احتیاط بہر حال ضروری ہوگی کہ اس کی کثرت کو بہر صورت روکا جائے۔ورنہ فلم بینی ایسی بلا ہے کہ اگر اس کی لت پڑ جائے تو پھر اس عادت میں ایک نشہ سا پیدا ہو جاتا ہے اور اس کے بعد شراب کی طرح ” چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کا فرگی ہوئی“۔دوم۔ملک میں حکومت یا اصحاب ثروت کی طرف سے ایسی کمپنیاں قائم کی جائیں جو اس عزم اور اس