مضامین بشیر (جلد 3) — Page 254
مضامین بشیر جلد سوم 254 بحالی کا پاکستان کے احمدیوں کی واپسی کے ساتھ کیا واسطہ ہے؟ قادیان میں رہنے والے احمدیوں کی جائیداد قانونا اور اخلاقاً ان احمدیوں کی اپنی جائیداد ہے جنہوں نے قادیان سے ہجرت نہیں کی اور شروع سے ہی قادیان میں رہتے آئے ہیں۔اور ہندوستانی شہری ہیں۔ایسے لوگوں کی جائیداد سے مغربی پاکستان کے احمدی مہاجروں کا تعلق جوڑنا اور اس کی بناء پر پاکستان کے مہاجر احمدیوں کی واپسی کا افترا کھڑا کرنا صرف ایسے لوگوں کا کام ہو سکتا ہے جنہیں نہ صرف جھوٹ سے کوئی پر ہیز نہیں بلکہ عقل سے بھی کوئی دور کا واسطہ تک نہیں۔حق تو یہ ہے کہ سمجھ دار اور شریف لوگوں کے لئے اس قسم کی خبروں کی تردید کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔مگر بد قسمتی سے ملک میں ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو ہمارے خلاف ہر غیر معقول بات سن کر اسے فوراً قبول کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔حتی کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ جب ہمارے ایک دوست نے ایک اخبار نویس سے اس خبر کے متعلق کہا کہ آپ نے یہ کیا جھوٹی اور غیر معقول خبر چھاپ دی ہے تو اخبار والوں نے بلا تکلف جواب دیا کہ چونکہ ایک دوسرے اخبار نے یہ خبر چھاپی تھی اور آپ کی طرف سے اس کی فوری تردید نہیں ہوئی اس لئے ہم نے بھی اسے چھاپ دیا ہے۔گویا ایسی خبروں کی تردید کی بھی ضرورت ہے جو خود اپنی ذات میں اپنی مجسم تردید ہوتی ہیں۔افسوس صد افسوس کہ ہمارے رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم تو یہ فرماتے ہیں کہ كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِباً أَنْ يُحَدِكَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ ( صحیح مسلم کتاب المقدمة باب النھی عن الحدیث بکل ما سمع ) یعنی ایک شخص کا جھوٹ ثابت کرنے کے لئے صرف یہی بات کافی ہے کہ وہ ہر ایسی اناپ شناپ بات جو وہ کسی دوسرے شخص سے سنے۔اسے بغیر تحقیق کے آگے بیان کرنے لگ جائے۔ہمارے خلاف ایک صریح طور پر خلاف واقعہ اور بدیہی طور پر خلاف عقل بات جس کے جھوٹے ہونے کو ایک معمولی عقل کا انسان بھی کسی خارجی دلیل کے بغیر آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے نہ صرف شائع کی جاتی ہے۔بلکہ اسے نمایاں کر کے ہمارے خلاف بدظنی اور بد گمانی اور بے چینی پیدا کرنے کا آلہ بنایا جاتا ہے۔اس ظلم پر اس کے سوا کیا کہا جائے کہ ایس ہم اندر عاشقی بالائے غم ہائے دگر ( محررہ 23 اپریل 1955ء) (روز نامہ الفضل 26 اپریل 1955ء)