مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 253 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 253

مضامین بشیر جلد سوم 253 میرے پاس قادیان میں آئے اور کس طرح ہمیں قادیان میں ایک احمدی ریاست کے قیام کا لالچ دے کر دوسرے مسلمانوں سے توڑنے کی کوشش کی۔مگر انہیں اس پیشکش کا سختی سے جواب دیا گیا۔اس کے بعد اسی تعلق میں مولوی عبدالعزیز صاحب آف بھا مڑی کی ایک شہادت بھی الفضل مورخہ 30 اپریل میں شائع ہو چکی ہے۔اب اس کے متعلق محتر می سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کی شہادت بھی موصول ہوئی ہے جو درج ذیل کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ محترمی چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے نے بھی مجھ سے ذکر کیا ہے کہ ان سے بھی سردار وریام سنگھ صاحب نے یہ تجویز بیان کی تھی اور ان سے بات کرنے کے بعد مجھے ملنے کے لئے آئے تھے۔(محررہ 15 مئی 1955ء) ( اس کے بعد مکرم سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کا خط درج ہے۔) (روزنامه الفضل 21 مئی 1955ء) جماعت احمدیہ کے متعلق ایک اور جھوٹا پراپیگنڈا قادیان کی جائیدادوں کے متعلق ایک خلاف عقل افتراء اس سے قبل پنجاب اور کراچی کے بعض اخباروں کے اس مفتر یا نہ نوٹ کی تردید شائع کی جاچکی ہے جو ربوہ کے ایک فرضی فتنہ کے متعلق ہمارے بعض کرم فرما مخالفین کی طرف سے شائع ہوا تھا۔اس کے بعد میرے علم میں ایک اور اسی قسم کا افتراء لایا گیا ہے جسے مغربی پاکستان کے بعض اخباروں نے نمایاں کر کے شائع کیا ہے۔اس افترا میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ قادیان میں بسنے والے احمدیوں نے مشرقی پنجاب کی حکومت سے اپنے مکانات وغیرہ کی بحالی اور واگزاری کا مطالبہ کیا ہے۔اور یہ کہ اس کے نتیجہ میں مغربی پاکستان کے بہت سے مہاجر احمدی قادیان میں واپس جا کر وہاں آباد ہو جائیں گے۔یہ خبر بھی اسی قسم کا ایک مفتریانہ پراپیگنڈا ہے جو ہمارے بعض مخالفین ہمارے خلاف کرتے رہتے ہیں۔مگر ہر شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ اگر قادیان میں بسنے والے احمدیوں نے مشرقی پنجاب کی حکومت سے اپنی ایسی عمارات وغیرہ کی واگزاری کا مطالبہ کیا ہے جو ملکی تقسیم کے ہنگامی حالات میں ان کے ہاتھ سے نکل گئی تھیں تو اس سے مغربی پاکستان کے مہاجر احمدیوں کا کیا تعلق ہوسکتا ہے۔اور ایسی عمارات کی