مضامین بشیر (جلد 3) — Page 251
مضامین بشیر جلد سوم 251 پوزیشن بہت نازک ہے۔مسلمان آپ کو اپنانے کے لئے تیار نہیں۔پس آپ ان کی وجہ سے سکھوں اور ہندوؤں سے خواہ نخواہ نہ بگاڑیں اور آئندہ چل کر معلوم نہیں ملک میں کیا حالات پیدا ہوں (غالباً ان کا اشارہ آئندہ ہونے والے فسادات کی طرف تھا) اس لئے میں آپ کی ہمدردی کے خیال سے کہتا ہوں کہ آپ مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ کر ہمارے ساتھ سمجھوتہ کر لیں۔میں نے سردار صاحب کا اندرونہ معلوم کرنے کی غرض سے کہا۔فرمائے وہ کیا سمجھوتہ ہے؟ سردار صاحب کہنے لگے ہم آپ کی جماعت کو قادیان اور اس کے ماحول میں ایک قسم کی نیم آزاد حکومت دینے کو تیار ہیں جیسے کہ آج کل انگریزوں کے ماتحت ہندوستانی ریاستیں ہیں۔اس طرح آپ عملاً آزاد بھی ہوں گے اور ملک کے مجموعی مفاد سے بھی فائدہ اٹھاتے رہیں گے اور سردار صاحب نے یہ بھی کہا کہ میں یہ بات اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ بعض ذمہ دار لیڈروں کے اشارہ پر کہ رہا ہوں۔میں نے جواب دیا سردار صاحب آپ ہمیں معاف فرما ئیں۔ہم دوسرے مسلمانوں کے ساتھ غداری کر کے آپ کے ساتھ جوڑ نہیں ملا سکتے۔پس میرا مشورہ آپ کو یہ ہے کہ آپ اس ناکام کوشش پر مزید اصرار نہ کریں۔ہاں جو کچھ میں نے آپ سے کہا ہے کہ آپ اس موقع پر ہندو قوم کے ساتھ شامل ہو کر گھاٹے میں رہیں گے۔اس پر ضرور غور فرمائیں کیونکہ موجودہ حالات میں مجھے سکھ قوم کا مستقبل اچھا نظر نہیں آتا اور ویسے اہل وطن ہونے کی بنیاد پر ہم ہندوؤں کو بھی غیر نہیں سمجھتے اور سب کے ساتھ انصاف کے متمنی ہیں اور علی قدر مراتب سب کے خیر خواہ ہیں۔اس پر ہماری یہ دلچسپ گفتگو ختم ہو گئی۔اس کے بعد نہ تو مجھے سردار وریام سنگھ صاحب کبھی ملے اور نہ ہی مجھے ان کے حالات کا علم ہوسکا کیونکہ بہت جلد فسادات شروع ہو گئے۔اور ان فسادوں میں جو کچھ ہونا تھا وہ ہوا جس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں کیونکہ ملکی تقسیم کے نتائج ہند و پاکستان کی تاریخ کا ایک کھلا ہوا ورق ہیں۔جو کسی واقف کار کی نظر سے پوشیدہ نہیں اور نہ ہی اس وقت اس کے متعلق کچھ لکھنا مناسب ہے۔وَاخِرُ دَعُونَا أَن الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَظِيم محررہ 20 فروری 1955ء) روز نامه الفضل 21 اپریل 1955ء)