مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 250 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 250

مضامین بشیر جلد سوم مذکور ہی تھے۔250 چند دن کے بعد سردار وریام سنگھ صاحب پھر قادیان آئے اور مجھے مل کر فرمانے لگے کہ میں نے بہت سوچا ہے مجھے آپ کا اور دوسرے مسلمانوں کا کوئی مشترکہ مفاد نظر نہیں آتا۔آپ کی جماعت خواہ نخواہ امرتسر اور دیگر مقامات کے مسلمانوں کی مدد کر کے اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔کیونکہ موجودہ حالات میں آپ کو انجام کار نقصان پہنچنا یقینی ہے۔میں نے کہا ہم کوئی خلاف اخلاق بات نہیں کر رہے اور انجام کار کے فائدہ اور نقصان کا علم تو خدا کو ہے کہ ہمیں پہنچتا ہے یا یہ کہ آپ کو پہنچتا ہے مگر بہر حال ہم اور دوسرے مسلمان قومی اور ملتی اور سیاسی مفاد کے لحاظ سے ایک ہی ہیں اور ہم انشاء اللہ ایک ہی کشتی میں رہیں گے خواہ خدانخواستہ یہ کشتی ڈوبے یا خدا کے فضل سے تیرتی ہوئی کنارے پر جالگے۔باقی اسلامی تعلیم کے ماتحت ہمارا یہ بھی اصول ہے کہ جس حکومت کے ماتحت بھی ہم ہوں اس کے وفادار ر ہیں۔مگر آپ کے قومی حالات کے پیش نظر میں آپ سے یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ موجودہ حالات میں آپ کا اور ہندوؤں کا گٹھ جوڑ مجھے آپ کے لئے انجا مکار کے لحاظ سے اچھا نظر نہیں آتا اور میں خیال کرتا ہوں کہ اس گٹھ جوڑ کے نتیجہ میں سکھ قوم جو ہندوؤں کے مقابل پر بہت چھوٹی سی قوم ہے بالآخر کمزور ہو کر ختم ہو جائے گی اور جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے اس وقت اپنا مضمون ” خالصہ ہوشیار باش‘ بھی سردار صاحب کو دیا اور انہیں سمجھایا کہ سکھ قوم کے مفاد ہندوؤں کی نسبت مسلمانوں سے زیادہ قریب ہیں اور ان کا عام قومی کیریکٹر بھی مسلمانوں سے زیادہ ملتا ہے اور دونوں کے مذہب کا مرکزی نقطہ یعنی تو حید بھی ایک دوسرے سے نسبتاً قریب تر ہے۔اس لئے ملک کے اس نازک مرحلہ پر سکھوں کو جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہئے۔بلکہ بہت سوچ سمجھ کر اور اپنے قریب اور دور کے مفاد کا پوری طرح موازنہ کر کے قدم اٹھانا چاہئے تا ایسا نہ ہو کہ کثیر التعداد ہندو قوم کی سیاست جو ایک بہت وسیع ملک پر پھیلی ہوئی ہے سکھوں کی چھوٹی سی قوم کے لئے نقصان کا باعث بن جائے اور وہ کسی طرف کے بھی نہ رہیں۔اس پر سردار صاحب خاموش ہو گئے اور صرف اتنا کہا کہ میں نے ہمدردی کے خیال سے آپ کے ساتھ بات کی تھی آپ اسے سوچ لیں۔اس کے بعد جب سردار وریام سنگھ صاحب مجھے آخری دفعہ ملے تو اس وقت ملکی تقسیم کا وقت بالکل قریب آ چکا تھا۔اس لئے جلد جلد بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر سردار صاحب صاف صاف اور دوٹوک بات کرنا چاہتے تھے۔مجھ سے علیحدگی میں کہنے لگے کہ اب ملک بٹ رہا ہے اور آپ کی جماعت کی