مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 249 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 249

مضامین بشیر جلد سوم 249 تعلقات بڑھانے شروع کئے اور اس بہانہ سے قادیان آنا جانا شروع کر دیا اور چونکہ چوہدری فتح محمد صاحب تبلیغ کا خاص شوق رکھتے تھے انہوں نے بھی اس تعلق کو غنیمت جانا اور آخر کار سردار وریام سنگھ صاحب کی خواہش پر چوہدری صاحب انہیں ایک دفعہ مجھے ملانے کے لئے میرے مکان پر بھی لے آئے۔میں نے پہلی ملاقات میں ہی محسوس کر لیا کہ سردار وریام سنگھ گو بظاہر بہت سادہ مزاج اور دیہاتی رنگ کے انسان نظر آتے تھے مگر اندر سے کافی گہرے اور اپنی قوم اور پارٹی کے مفاد کو ہر رنگ میں اور ہر حیلے سے ترقی دینے کا زبر دست جذ بہ رکھتے تھے۔ان ایام میں چونکہ جماعت احمد یہ قادیان کی طرف سے ملکی اور بین الاقوامی معاملات میں پنجاب کے مسلمانوں کی عمومی اور اپنے ہمسایہ شہر امرتسر کے مسلمانوں کی خصوصی امداد کی جا رہی تھی اور انہیں قومی حقوق کی حفاظت کے لئے حسب حالات ضروری مشورہ دیا جارہا تھا اور یہ بات طبعا اس وقت کے ماحول میں ہندوؤں اور سکھوں کو نا گوار تھی۔اس لئے ایک دن سردار وریام سنگھ صاحب نے مجھے باتوں باتوں میں کہا کہ آپ کی جماعت دوسرے مسلمانوں کے معاملات میں کیوں دلچسپی لیتی ہے اور ان کی کیوں امداد کرتی ہے؟ میں نے کہا سردار صاحب یہ تو کوئی پوچھنے والی بات نہیں۔آپ جانتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے مسلمان ہیں اور ہمارے اور دوسرے مسلمانوں کے عام قومی اور سیاسی مفاد ایک ہی ہیں اس لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا اور حسب حالات ایک دوسرے کو مشورہ دینا ایک طبعی امر ہے۔سردار صاحب نے کہا میں نے تو سنا ہے کہ آپ کے اور دوسرے مسلمانوں کے مذہبی عقائد میں بڑا فرق ہے اور انہوں نے آپ کے خلاف کفر کا فتویٰ بھی دے رکھا ہے اور شاید آپ بھی انہیں سچا مسلمان نہیں سمجھتے۔تو پھر اس اتحاد اور جوڑ توڑ کے کیا معنے ہیں؟ میں نے کہا بعض عقائد میں بے شک اختلاف ہے مگر بہر حال ہمارے مذہب کا بنیادی کلمہ تو ہر دو فریق کا ایک ہی ہے لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ اور ہمارے سیاسی اور عام قومی مفاد بھی یقیناً متحد ہیں۔اس لئے ہم اس قسم کے ملی اور قومی معاملات میں دوسرے مسلمانوں سے کس طرح الگ ہو سکتے ہیں؟ سردار صاحب ہوشیار آدمی تھے۔میرے اس جواب پر یونہی رسمی رنگ میں ہاں ہوں کر کے خاموش ہو گئے لیکن اس کے بعد بھی ان کا قادیان اور اس کے ماحول میں آنا جانا جاری رہا۔کیونکہ یہ علاقہ ان کے حلقہ انتخاب میں شامل تھا اور قادیان اور اس کے گردونواح میں سکھ بھی کافی آباد تھے۔بلکہ چونکہ اس علاقہ میں ہندو بہت تھوڑے تھے اور اس علاقہ کا ہند وممبر غالبا ایک وسیع تر علاقہ کا نمائندہ تھا اس لئے اس علاقہ میں اس وقت گویا ہندوؤں کے نمائندہ بھی عملاً سر دار صاحب