مضامین بشیر (جلد 3) — Page 248
مضامین بشیر جلد سوم تاریخ احمدیت کا ایک اہم مگر پوشیدہ ورق 248 میں عادتاً اور شاید فطرتا بھی سیاسی مزاج کا آدمی نہیں ہوں۔مگر بعض اوقات استثنائی حالات میں میرے جیسے لوگوں کو بھی اپنے وقتی فرائض کے لحاظ سے اپنی عادت اور مزاج کے خلاف کسی حد تک سیاسی امور میں حصہ لینا پڑ جاتا ہے۔چنانچہ جو واقعہ میں اس جگہ بیان کرنے لگا ہوں وہ اسی قسم کے استثنائی حالات سے تعلق رکھتا ہے اور چونکہ یہ واقعہ آج تک بہت ہی کم لوگوں کو معلوم ہے بلکہ شاید دو تین بزرگوں کے سوا کسی کو بھی اس کا علم نہیں۔اور دوسری طرف وہ ایک لحاظ سے جماعت احمدیہ کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے اس لئے اسے ریکارڈ کی غرض سے بیان کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔اس واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ جب ملکی تقسیم سے قبل 1946 ء میں تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور میں پنجاب اسمبلی کا الیکشن ہوا اور یہ الیکشن متحدہ پنجاب کا وہ آخری اور معرکۃ الآراء الیکشن تھا۔جس میں الیکشن کے نتیجہ میں اس بات کا فیصلہ ہونا تھا کہ آیا پنجاب کے مسلمان مسلم لیگ کی پالیسی کی تائید میں ہیں یا کہ اس کے خلاف ہیں۔اور یہ کہ پاکستان کے بنے یا نہ بننے کے متعلق ان کی رائے کیا ہے؟ اس موقع پر جماعت احمدیہ نے بھی بٹالہ کی تحصیل سے چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے کو بطور امیدوار کھڑا کیا تھا۔اور چونکہ یہ خاکسار اس وقت جماعت کی طرف سے بٹالہ کے الیکشن کا انچارج تھا اور اتفاق سے میں اس وقت ناظر اعلیٰ بھی تھا۔اس لئے اس الیکشن اور اس کے بعد کے بہت سے حالات اس وقت تک میرے ذہن میں بڑی حد تک تازہ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس الیکشن میں چوہدری فتح محمد صاحب کو نمایاں کامیابی عطا فرمائی اور وہ اپنے یونی نسٹ حریف کو شکست دے کر مسلم لیگ کی مضبوطی کا باعث بن گئے۔اس تمہید کے بعد میں اب اصل مضمون کی طرف آتا ہوں۔جو ہندوؤں اور سکھوں کی باہمی سازباز سے تعلق رکھتا ہے۔پنجاب کی جس جنرل الیکشن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے اس الیکشن میں بٹالہ کی تحصیل میں جو سکھ نمائندہ کامیاب ہوا تھا اس کا نام سردار وریام سنگھ تھا۔سردار صاحب پنجاب کی مشہور ا کالی پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے اور چونکہ طبعاً ایک علاقہ کے ممبروں کا باہم رابطہ ہوتا ہے اور سیاسی لحاظ سے یہ زمانہ بھی ایک خاص نوعیت کا زمانہ تھا جس میں مختلف پارٹیوں کے جوڑ توڑ پورے زور پر تھے۔اس لئے سردار وریام سنگھ صاحب مذکور نے غالباً ہونے والی ملکی تقسیم کے آثار دیکھ کر چوہدری فتح محمد صاحب سیال احمدی کے ساتھ