مضامین بشیر (جلد 3) — Page 200
مضامین بشیر جلد سوم 200 برابر بھی ایمان ہو ( ہاں ہاں سچا اور زندہ ایمان تو تم پانیوں پر چلو اور پہاڑوں کو حرکت میں لے آؤ مگر افسوس کہ میچ ناصری نے یہ زریں تعلیم تو دی مگر وہ اپنے حواریوں میں ایسا زندہ ایمان پیدا نہ کر سکے۔لیکن ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی) نے اپنی اعلیٰ قوت قدسیہ کے ذریعہ صحابہ میں وہ ایمان پیدا کر دیا جس نے دیکھتے دیکھتے دنیا کی کایا پلٹ دی۔اور بڑے بڑے پہاڑوں پر زلزلہ وارد کر دیا۔ہمارے رسول پاک کے صحابہ اسلام کی فتح کی خاطر موت کے منہ میں اس طرح کودتے تھے کہ گویا اپنے خون کے قطروں میں جنت کا نظارہ دیکھ رہے ہیں۔مگر جہاں ایمان کامل نہ ہو۔وہاں انسان ہر مشکل کو ایک ہو اسمجھ کر دل چھوڑ دیتا ہے۔پس اسلام اور احمدیت کے غلبہ کے متعلق شبہات میں مبتلا ہونے والوں کی پہلی غلطی یہ ہے کہ ان مشکلات اور خطرات کو دیکھنے والی آنکھ تو حد سے زیادہ تیز ہے جو ہر چیز کو بہت بڑھا چڑھا کر دیکھتی ہے مگر ان کا ایمان اس قدر کمزور ہے کہ وہ اپنے گردو پیش کے حالات کی وجہ سے خدائی وعدوں پر ایسا یقین نہیں رکھتے جو ایک سچے مومن کو حاصل ہوا کرتا ہے۔بلکہ بعض اوقات اپنے شکوک وشبہات کے جا و بے جا ( جابے جا ) اظہار سے دوسرے لوگوں کو بھی بد دل کرتے رہتے ہیں۔دراصل وہ ان عظیم الشان طاقتوں سے بالکل بے خبر ہیں۔جو ان کے خدا کو حاصل ہیں۔اور دوسری طرف وہ ان وسیع طاقتوں سے بھی بے خبر ہیں جو خود ان کو حاصل ہیں۔کیا ایسے لوگ خیال کرتے ہیں کہ ایک ادنی سے ایٹم میں تو خدا نے یہ طاقت ودیعت کی ہوئی ہے کہ اگر وہ ایک خاص رنگ میں تیار کیا جا کر پھٹے تو ایک ملک کو ہلاک کر کے رکھ دے۔مگر احسنِ تقویم میں پیدا کئے جانے والے اشرف المخلوقات انسان میں کوئی خاص طاقت ودیعت نہیں کی گئی۔بلکہ وہ ہر مشکل کے سامنے جھک جانے اور ہر خطرہ کے وقت لوگوں کی ٹھوکریں کھانے کے لئے پیدا کیا گیا ہے!! هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تَصِفُونَ۔دوسری امکانی وجہ اس غلط فہمی کی دوسری امکانی وجہ یہ ہے کہ عام لوگوں کی نظریں صرف ظاہری حالات اور ظاہری اسباب تک محدود رہتی ہیں۔اور وہ صرف اس مادی اور ظاہری نظارہ کی بناء پر اپنے خیالات اور قیاسات قائم کرتے ہیں۔اور جب وہ دیکھتے ہیں کہ الہی سلسلہ کتنا کمزور ہے اور اس کے مقابل کی طاقتیں کتنی زبر دست اور کتنی وسیع ہیں۔تو وہ مایوس ہونے لگتے ہیں۔حالانکہ خدائی سلسلے صرف ظاہری اور مادی اسباب کی بنا پر ترقی نہیں کیا کرتے۔بلکہ زیادہ تران مخفی اور روحانی تا خیرات کی بناء پر ترقی کرتے اور غلبہ پاتے ہیں جو خدائے حکیم وقد میران کی تائید میں لگا دیتا ہے۔قرآن مجید نے اسی غرض سے حضرت آدم کے قصہ میں یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ جب خدا نے آدم کو پیدا کیا تو