مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 199 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 199

مضامین بشیر جلد سوم 199 خلاصہ کلام یہ کہ خدا کی طرف سے آنے والے مصلح نہ تو ایک طرف اپنے مقابل کی طاقتوں اور خطرات کی طرف سے آنکھیں بند کرتے ہیں اور نہ دوسری طرف ان خطرات کی وجہ سے ڈرتے اور مایوس ہوتے ہیں۔بلکہ وہ ان خطرات کے باوجود اپنی آخری فتح کے متعلق کامل یقین رکھتے ہیں۔اور اسی بصیرت تامہ اور یقین کامل کے دُہرے محاذ میں ان کی کامیابی کا راز مخفی ہوتا ہے۔لیکن بدقسمتی سے دوسرے لوگوں میں سے ایک طبقہ تو ایمان کی کمزوری کی وجہ سے بسا اوقات خطرات کو دیکھ کر مایوسی کی طرف جھکنے لگ جاتا ہے۔اور خیال کرتا ہے کہ ان بھاری مشکلات کے ہوتے ہوئے ہم کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں۔اور دوسرا طبقہ اپنے رستہ کی مشکلات سے غافل رہ کر گویا جنت الحمقاء میں زندگی گزارتا ہے اور اپنی جھوٹی تسلی کی وجہ سے اس جد و جہد اور قربانی میں حصہ نہیں لیتا۔جو ظاہری اسباب کے ماتحت خدائے حکیم نے کامیابی کے لئے مقدر کر رکھی ہے۔اس لئے بزرگوں نے کہا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اکثر فرمایا کرتے تھے کہ الْإِيْمَانُ بَيْنَ الرَّجَاءِ وَالْخَوْفِ یعنی سچا ایمان امید اور خوف کے بین بین قائم ہوا کرتا ہے۔نہ تو محض امید کا پہلو ہو جو انسان کو جد وجہد سے غافل کر دیتا ہے۔اور نہ ہی خوف کا غلبہ ہو جو مایوسی کا دروازہ کھولتا ہے۔مایوسی کی چارا مکانی وجو ہات میں سے پہلی وجہ ایٹم اور آدم کا موازنہ دراصل اس قسم کی مایوسی عموماً چار وجوہ سے پیدا ہوتی ہے۔پہلی وجہ ایک مرکب قسم کی وجہ سے ہے جس میں ایک طرف تو اپنے مقابل کے خطرات اور مشکلات کا حد سے زیادہ بڑھا ہوا احساس ہوتا ہے۔اور دوسری طرف ایمان کی کمزوری اور خدائی وعدے پر عدم بھروسہ کا غلبہ ہوتا ہے۔مشکلات اور خطرات کا احساس بیشک ہونا چاہئے اور ضرور ہونا چاہئے۔لیکن ان مشکلات کو ہو انہیں بنا لینا چاہئے۔جنہیں دیکھ کر ہاتھ پاؤں پھولنے لگیں اور انسان مایوس ہو کر اپنی قسمت پر فاتحہ خوانی کرنے لگ جائے۔بلکہ مشکلات کے احساس کا صرف یہ نتیجہ ہونا چاہئے کہ انسان ان مشکلات پر قابو پانے کے لئے اپنی جد و جہد کو تیز سے تیز تر کر دے۔اور دوسری طرف بچے ایمان کا یہ تقاضا ہونا چاہئے کہ انسان کے لئے خدائی وعدے محض ایک دل بہلانے کا کھلونا نہ ہوں بلکہ ایک ایسی زندہ حقیقت ہوں جنہیں وہ گویا اپنی آنکھوں کے سامنے پورا ہوتے دیکھ رہا ہے۔کاش ہمارے دوست اس حقیقت کو سمجھیں کہ ایمان میں کتنی زبر دست طاقت مخفی ہے۔اے کاش وہ سمجھیں ! حضرت مسیح ناصری کے بعض اقوال بڑے پیارے ہوتے ہیں۔فرماتے ہیں کہ اگر تمہارے اندر رائی کے دانہ کے