مضامین بشیر (جلد 3) — Page 142
مضامین بشیر جلد سوم 142 لیکن کسی خطر ناک بیماری یا حادثہ کے نتیجہ میں وہ اپنے طبعی وقت سے پہلے ہی ٹوٹ کر ختم ہو جائے۔جسے عرفِ عام میں بے وقت موت یا موت قبل از وقت کا نام دیا جاتا ہے اور (2) دوسرے انسانی مشینری کے طبعی گھس گھساؤ (Wear and Tear) کے نتیجہ میں موت واقع ہونا جو عر فا بڑھاپے کی موت یا طبعی موت کہلاتی ہے۔پس طبعی موت تو بہر حال آئے گی جسے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔گو چونکہ ہر انسانی مشین الگ الگ قومی کی حامل ہوتی ہے۔اس لئے ہرمشین کا گھس گھساؤ کے نتیجہ میں ختم ہونا بھی الگ الگ وقت کا متقاضی ہے۔مگر بہر حال یہ ایک فطری قانون ہے جو کبھی ٹل نہیں سکتا کہ ہر انسانی مشین کے لئے ایک وقت پر جا کر ختم ہو جانا مقدر ہے۔اس طرح انسان کے لئے ایک نہ ایک وقت مرنا تو بہر حال تقدیر مبرم ہے۔جس کی طرف قرآن مجید نے ان حکیمانہ الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے۔كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ(آل عمران:186) یعنی ہر انسانی جان ایک نہ ایک وقت ضرور موت کا مزا چکھنے والی ہے۔لیکن دوسری قسم کی موت جو انسانی مشین کے طبعی گھس گھساؤ کے نتیجہ میں نہیں بلکہ کسی خاص بیماری یا حادثہ کے نتیجہ میں آتی ہے۔اور ویسے ابھی انسانی مشین طبعی رنگ میں مزید چلنے کے قابل ہوتی ہے تو یہ تقدیر معلق ہے جو صحیح اور بر وقت علاج سے مل سکتی ہے۔اور اسی کے پیش نظر ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ إِلَّا الْمَوْتَ یعنی ہر بیماری کے لئے خدا نے کوئی نہ کوئی علاج مقرر کر رکھا ہے۔البتہ جب تقدیر مبرم والی موت آجائے تو پھر اس کا کوئی علاج نہیں۔خلاصہ یہ کہ اول تو موت کا وقت مقرر ہونے سے یہ مراد نہیں کہ خدا کی تقدیر یہ ہے یا خدا کا فیصلہ یہ ہے کہ فلاں شخص فلاں وقت فوت ہو۔بلکہ اس سے مراد صرف یہ ہے کہ خدا کو اس بات کا علم ہے کہ کس شخص کی موت کب واقع ہوگی۔اور جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے خدا کے علم کی بنا پر کسی شخص کو اس کے زندگی کے واقعات میں مجبور نہیں قرار دیا جا سکتا۔اور نہ اس معاملہ میں کسی قسم کی علمی الجھن پیدا ہوتی ہے کیونکہ جیسا کہ ہم ثابت کر چکے ہیں خدا کا علم اس کی تقدیر سے بالکل جدا گانہ چیز ہے۔دوسرے یہ کہ اگر بفرض محال یہی سمجھا جائے کہ خدا نے اپنے حکم سے ہر انسان کے لئے موت کا ایک وقت مقرر کر رکھا ہے تو پھر بھی ہمارا فرض ہے کہ ہر بیماری میں خدا کے پیدا کئے ہوئے اسباب کے ماتحت علاج کی طرف توجہ دیں۔کیونکہ اپنے محدود اور ناقص علم کی وجہ سے ہم نہیں جانتے کہ آیا کوئی بیماری موت کا