مضامین بشیر (جلد 3) — Page 143
مضامین بشیر جلد سوم 143 پیغام لے کر آتی ہے یا کہ علاج سے ٹل جانے والی ہے۔اس ضمن میں وہ تیسری بات بھی ضرور یاد رکھنی چاہئے جو میں اوپر بیان کر چکا ہوں کہ جب انسان پر موت دو طرح سے آتی ہے۔ایک گویا غیر طبعی رنگ میں جبکہ ایک اچھا بھلا جسم کسی سخت حادثہ یا سخت بیماری کی چوٹ کھا کر قبل از وقت ٹوٹ جاتا ہے۔اور دوسرے طبعی رنگ میں جبکہ انسانی جسم اپنی واجبی عمر پوری کر کے طبعی گھس گھساؤ کے نتیجہ میں آہستہ آہستہ ختم ہو جاتا ہے۔تو اول الذکر صورت میں ( یعنی طبعی عمر سے قبل ) تو علاج بہر حال ضروری ہے تاکہ انسانی جسم کو قبل از وقت ٹوٹنے سے بچایا جائے۔اور ایک ایسی زندگی کو جود نیا کے لئے مفید ہے یا مفید بن سکتی ہے غیر طبعی رنگ میں ختم ہونے سے روکا جائے۔اور دوسری صورت میں بھی بہر حال علاج کی طرف سے غفلت برتنا درست نہیں۔کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ کسی انسان کی طبعی عمر کتنی ہے اور یہ کہ اس کے جسم کی مشینری طبعی رنگ میں کب ختم ہونی چاہئے۔ممکن ہے کہ ہم ایک اسی سالہ بوڑھے کے متعلق سمجھیں کہ وہ اپنی طبعی عمر پوری کر چکا ہے۔لیکن ابھی اس کے قومی میں ایسی رمق باقی ہو کہ مناسب علاج اور مناسب خوراک کے ذریعہ وہ دس بیس سال اور زندہ رہ جائے اور بزرگوں کی خدمت اور ان کی زندگی کو آخر دم تک خوشحال رکھنے کا مقدس فریضہ بہر حال مزید برآں ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ اس اہم اور نازک مضمون پر میرا یہ مختصر نوٹ ہمارے معزز دوست کی علمی تسلی کا موجب ہوگا۔لیکن اگر انہیں اب بھی پریشانی رہے تو بہتر ہوگا کہ وہ اس مسئلہ کی باریکیوں میں جانے کے بغیر صرف یہ سادہ عقیدہ رکھیں کہ بہر حال دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خدا تعالیٰ کے قانون اور حکم کے تابع ہے۔اور یہ کہ خواہ کچھ بھی ہو اس کا حکم ہر حال میں دنیا کی مجموعی بہبودی اور خوشحالی کے اصول پر مبنی ہے۔بالآخر میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس دوست کا ان کے صدمہ میں حافظ و ناصر ہو۔اور اپنی وسیع رحمت سے ان کے دل پر مرہم کا چھا یہ رکھے۔اور اس سے بڑھ کر مرہم کا چھا یہ کونسا ہوگا جو ہمارا رحیم وکریم خدا قرآن مجید میں خود بیان فرماتا ہے۔وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (البقره: 156-158) یعنی اے رسول! تو صبر کرنے والے مسلمانوں کو ہماری طرف سے بشارت دے ہاں وہی صابر و شاکر بندے جنہیں اگر ہمارے قانونِ قضا و قدر کے ماتحت کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو ان کے دل و زبان سے اس کے سوا کوئی آواز نہیں اٹھتی کہ ہم سب خدا کے ہیں اور ہم سب بالآخر اسی کی طرف جانے والے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا کی طرف سے خاص برکتیں اور خاص رحمتیں نازل ہوں گی اور یہی وہ لوگ ہیں جو سید ھے