مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 127 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 127

مضامین بشیر جلد سوم 127 اس واضح اور بین حوالہ سے یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ کلمتہ الفصل کے پہلے ایڈیشن کی کسی عبارت سے یہ نتیجہ نکالنا کہ گویا ہم نے اپنے آپ کو غیر احمدیوں سے کلی طور پر کاٹ لیا ہے اور ان کے ساتھ ہمارا کوئی اشتراک نہیں رہا۔انتہا درجہ کا ظلم اور افتر پردازی ہے۔جس کی کوئی انصاف پسند اور دیانت دار شخص جرات نہیں کر سکتا۔میں نے تو صریح اور واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ ” ہماری کتاب اور ہمارا کلمہ اور ہما را شارع رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک ہے“ کیا اس واضح تشریح اور ان محکم الفاظ کے ہوتے ہوئے کلی انقطاع والی تشریح کسی معقول انسان کے نزدیک قابل قبول سمجھی جاسکتی ہے؟ اور جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں یہ الفاظ آج پاکستان میں نہیں لکھے گئے بلکہ آج سے بارہ سال قبل قادیان میں لکھے گئے تھے۔جبکہ ہمارے موجودہ مخالفین کے اعتراضوں کا وجود تک نہ تھا۔پھر یہ بات بھی ہرگز فراموش نہیں کی جاسکتی۔اور یہ ایک خاص نکتہ ہے جو یادرکھنے کے قابل ہے کہ ہماری یہ تصانیف جن سے اس قسم کے غلط استدلال کئے جاتے ہیں غیر احمد یوں کو مخاطب کر کے نہیں لکھی گئیں بلکہ احمدیوں کے ہی طبقہ غیر مبائعین کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہیں۔جو اپنی کمزوری کے نتیجہ میں ان حدود کے توڑنے کے درپے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جماعت کی مضبوطی اور تنظیم کے پیش نظر قائم فرمائی تھیں۔اور ظاہر ہے کہ ایسے خطرہ کے موقع پر لازما احتیاط اور پیش آمدہ خدشات کی بناء پر زیادہ تاکید اور زیادہ شدت سے کام لیا جاتا ہے۔تا جماعت کا کوئی کمزور طبقہ لغزش نہ کھا جائے۔اور پھر ایسے ماحول میں بعض اوقات تشریح اور توضیح کی غرض سے بعض خاص اور نئی اصطلاحات بھی موقع کے لحاظ سے تجویز کر کے استعمال کر لی جاتی ہیں جو عام حالات میں یا عام خطاب کے وقت استعمال نہیں کی جاتیں۔وَلِكُلِّ أَن يُصْطَلِحَ - اس تعلق میں یہ اصولی اور بنیادی بات بھی ضرور یاد رکھنی چاہئے جسے اکثر لوگ بھول جاتے ہیں حالانکہ یہ بات ہر مسلمان کہلانے والے سے تعلق رکھتی ہے خواہ وہ کسی فرقہ کا فرد ہو کہ ہر فرقہ کے کوئی نہ کوئی امتیازی نشانات یا مخصوص عقائد ہوتے ہیں۔جو گویا اس کے لئے چار دیواری کا کام دیتے ہیں اور انہی امتیازی نشانات اور مخصوص عقائد کی وجہ سے ایک فرقہ دوسرے فرقوں سے ممتاز ہوتا اور پہچانا جاتا ہے اور ان مخصوص نشانات اور عقائد کوترک کرنے کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ انہیں ترک کرنے والا فرقہ اپنے ہاتھ سے اپنی ہستی کو مٹا دے۔بے شک ایک مذہب کے اندر بہت سی اصولی باتوں میں مشترکہ عقائد بھی ہوتے ہیں جو اس