مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 128 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 128

مضامین بشیر جلد سوم 128 مذہب کی طرف منسوب ہونے والے سب فرقوں کا مشترکہ اثاثہ سمجھے جاتے ہیں۔مگر ان مشتر کہ عقائد کے نیچے نیچے ہر فرقہ کے اپنے امتیازی نشانات اور مخصوص عقائد کا وجود بھی ضرور پایا جاتا ہے۔جن کی وجہ سے ہر فرقہ دوسرے فرقوں سے ممتاز رہتا اور الگ پہچانا جاتا ہے۔حنفی۔شافعی۔مالکی۔حنبلی پھر اہلحدیث۔اہل قرآن اور ایک جہت سے سب سے ممتاز اور جدا اہل تشیع پھر تصوف کے میدان میں قادری۔چشتی۔سہروردی۔اور نقشبندی وغیرہ وغیرہ مسلمانوں میں بیسیوں بلکہ ایک حدیث کے مطابق بہتر تہتر فرقے ہیں۔اور ہر فرقہ اپنے بعض مخصوص عقائد اور مخصوص نشانات رکھتا ہے۔کوئی کم اور کوئی زیادہ۔مگر ان مخصوص عقائد اور مخصوص نشانات کے باوجود یہ سب اسلام کی ظاہری اور عرفی تعریف کے لحاظ سے مسلمان سمجھے جاتے ہیں۔پس اگر ہم نے کسی جگہ کسی خاص گروہ کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے بعض مخصوص نشانات اور مخصوص چاردیواری پر زیادہ زور دیا۔تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم نے مشترکہ عقائد میں بھی اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے کاٹ لیا ہے یا انہیں اپنے آپ سے کاٹ کر جدا کر دیا ہے۔مذہب کی حقیقت بے شک دوسری چیز ہے اور اس میں ہر شخص اور ہر فرقہ کا اپنا اپنا نظریہ ہے مگر اسلام کی ظاہری اور عمر فی تعریف بہر حال وہی رہے گی جو ہمارے آقا خاتم النبین سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کلمہ طیبہ میں بیان فرمائی ہے۔چنانچہ اسی کتاب کالمۃ الفصل کا ایک اور حوالہ اُن لوگوں کی تسلی کا موجب ہونا چاہئے۔جو جماعت احمدیہ کے متعلق خود غرض لوگوں کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں میں مبتلا ہو کر ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔اس حوالہ کے الفاظ یہ ہیں کہ۔جہاں اسلام کی ایک حقیقی اور اصلی تعریف ہے وہاں اس کی ایک عرفی اور رسمی تعریف بھی ہے جو یہ ہے کہ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور قرآن شریف کی شریعت پر ایمان لانے کا مدعی ہو۔پس جو شخص اس رسمی اور عرفی تعریف کو پورا کر دیتا ہے وہ عرفی اور رسمی رنگ میں مسلمان کہلائے گا“ کلمۃ الفصل ایڈیشن ثانی مطبوعہ 1941 ء صفحہ 156 ) یہ حوالہ ہر انصاف پسند شخص کیلئے جو تعصب سے آزاد ہو کر دیانتدارانہ رنگ میں غور کرنے کے لئے تیار ہے ایک کلیدی حوالہ ہے۔جس سے بہت سے دوسرے حوالہ جات کی الجھنیں دور ہو جاتی ہیں اور محکم اور متشابہ کا وجود تو قرآن مجید تک میں موجود ہے۔جس سے کوئی مسلمان انکار نہیں کر سکتا۔تو پھر کسی دوسرے کے کلام میں یہ انداز بیان کیوں قابل اعتراض سمجھا جائے ؟ بلکہ لطف یہ ہے کہ ہمارے موجودہ مخالف علماء میں سے بھی بعض لوگوں نے رسمی اور اسی مسلمان اور صالح اور غیر صالح کی اصطلاح بنا رکھی ہے۔فَافَهُمْ وَ تَدَبَّرُ وَلَا تَكُن مِنَ الْمُمْتَرِينَ -