مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 126 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 126

مضامین بشیر جلد سوم 126 مراد ہرگز نہیں کہ ہم دوسرے مسلمانوں سے کلی طور پر کٹ گئے ہیں یا کہ دوسرے مسلمان ہم سے کئی طور پر کٹ گئے ہیں۔بلکہ صرف بعض خاص جماعتی امتیازات اور جماعتی حد بندیوں کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔اس سے زیادہ کچھ نہیں۔اس نوجوان کو اُس وقت کی غیر معمولی مصروفیت اور عدم یکسوئی کی وجہ سے میں اس اصولی جواب کے سوا کوئی اور جواب نہیں دے سکا۔اور اس کے بعد کئی ماہ تک پریشانیوں کا سلسلہ بدستور جاری رہا۔اور جماعت ان امتحانوں میں سے گزرتی رہی جو ہر مامور من اللہ کے زمانہ میں الہی جماعتوں کے لئے مقدر ہوتے ہیں اور ابھی معلوم نہیں کہ اور کتنے امتحان باقی ہیں۔وَ نُفَوِّضُ أَمْرَنَا إِلَى اللَّهِ نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِير لیکن اب مجھے یاد آیا ہے کہ میری تصنیف کلمتہ الفصل کے آخر میں جو چند عدد اعتراضات غیر مبائعین کی طرف سے درج کر کے ان کا جواب دیا گیا ہے ( اور یادر ہے کہ میری یہ تصنیف میرے طالب علمی کے زمانہ کی ہے ) ان میں سے گیارھویں اعتراض کے جواب کے متعلق کتاب کے پہلے ایڈیشن کے وقت بھی بعض جلد باز لوگوں کی طرف سے یہ اعتراض اٹھایا گیا تھا کہ اس سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ جماعت کو دوسرے مسلمانوں سے کلی طور پر کاٹ لیا گیا ہے (حالانکہ میری تحریر کا ہرگز یہ منشا نہیں تھا بلکہ صرف ایک محدود میدان کو سامنے رکھ کر اور صرف غیر مبائعیین احباب کو مخاطب کر کے اس قسم کے الفاظ لکھے گئے تھے کہ جماعتی تنظیم میں یہ یہ حدود قائم کی گئی ہیں اور یہ کہ ہمیں جماعت کی اس چاردیواری کو محفوظ رکھنا چاہئے ) چنانچہ اس غلط فہمی کے پیش نظر اس رسالہ کے دوسرے ایڈیشن کے وقت جو 1941ء میں ( یعنی آج سے بارہ سال قبل ) قادیان سے شائع ہوا میری طرف سے یہ صراحت کر دی گئی تھی کہ یہ نتیجہ نکالنا سراسر غلط ہے کہ ہم دوسرے مسلمانوں سے کلی طور پر کٹ گئے ہیں۔بلکہ جہاں ہمیں بعض مسائل اور معتقدات میں دوسرے مسلمانوں سے اختلاف ہے وہاں ہمیں بہت سے دوسرے مسائل اور معتقدات میں ان سے اتفاق بھی ہے۔چنانچہ میں نے رسالہ کلمتہ الفصل کے دوسرے ایڈیشن مطبوعہ 1941 ء میں صراحتاً لکھا تھا کہ یقیناً دوسرے منکرین کی نسبت غیر احمدی ہمارے بہت زیادہ قریب ہیں اور ہماری کتاب اور ہمارا کلمہ اور ہمارا شارع رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک ہے۔۔۔پس اگر غیر احمدیوں سے دوسرے منکرین کی نسبت بعض امور میں امتیازی سلوک روا رکھا جائے تو یہ ایک بالکل جائز اور معقول فعل ہوگا جس پر کسی شخص کو اعتراض نہیں ہونا چاہیئے“ کلمۃ الفصل ایڈیشن دوم مطبوعہ 1941 ، صفحہ 118)