مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 125 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 125

125 مضامین بشیر جلد سوم کے صدمہ رسیدہ والدین اور دیگر عزیزوں کو صبر جمیل اور ثواب عظیم سے حصہ وافر عطا کرے۔اس کے ہم وطنوں کو اس کے اجر اور ہونے والی خدمات کے نتائج سے محروم نہ فرمائے۔اور ربوہ کے دیگر غیر ملکی طلباء کا دین ودنیا میں حافظ و ناصر ہو۔آمین محرره 27 اگست 1953 ء ) (روز نامہ المصلح کراچی کیم تمبر 1953 ء) کیا ہم نے اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے کاٹ رکھا ہے؟ ایک نو جوان کے سوال کا جواب غالباً مارچ 1953ء کے اواخر کی بات ہے کہ سرگودہا کے ایک نو جوان دوست ( جو غالبا وہاں کے کسی کالج میں پڑھتے ہیں ) میرے پاس ربوہ تشریف لائے۔اور ایک مخالف مولوی صاحب کا ایک رسالہ میرے سامنے کر کے کہنے لگے کہ اس رسالہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفۃ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے بعض حوالہ جات ایسے درج ہیں جن سے مصنف رسالہ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جماعت احمدیہ نے گویا اپنے آپ کو خود دوسرے مسلمانوں سے کاٹ کر الگ کر رکھا ہے۔اور ساتھ ہی اس نوجوان نے یہ بھی بتایا کہ اس رسالہ میں ایک حوالہ آپ کا (یعنی خاکسار ) کا بھی درج ہے اور اس سے بھی اس قسم کا استدلال کیا گیا ہے۔چونکہ اُس وقت یہ خاکسار ملکی فسادات سے پیدا شدہ حالات کے نتیجہ میں بعض انتظامی کاموں میں بہت مشغول تھا اور طبیعت میں خاطر خواہ یکسوئی نہیں تھی۔اس لئے اس وقت اس نوجوان کو صرف اس قدر اصولی جواب دینے پر اکتفا کیا گیا کہ حوالہ جات کی تشریح میں اکثر نا واجب تصرف سے کام لیا جاتا ہے۔اور بیشتر صورتوں میں حوالے سیاق و سباق یا ماحول سے کاٹ کر پیش کر دیئے جاتے ہیں۔تا کہ اپنا مفید مطلب نتیجہ نکال کر عوام کو دھو کے میں ڈالا جائے اور میں نے یہ بھی کہا کہ میرے اس حوالہ کا (جو رسالہ کلمتہ الفصل سے ماخوذ ہے ) وہ مطلب نہیں ہے جو بیان کیا گیا ہے۔بلکہ جہاں تک مجھے یاد ہے اس سے مراد صرف یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعتی تنظیم کی تکمیل اور اس کی چاردیواری کی تعیین کی غرض سے اپنی جماعت کے لئے نماز اور رشتہ نا تا وغیرہ کے معاملہ میں بعض حد بندیاں لگائی ہیں۔مگر ان حد بندیوں سے یہ