مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 124 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 124

مضامین بشیر جلد سوم 124 پوری ہونے کے بعد نصف شب کے قریب دفنا سکے۔دفنانے میں جلدی اس لئے کی گئی کہ جسم کی حالت دیکھ کر ڈاکٹروں کی رائے تھی کہ بلا توقف دفنا دینا چاہئے۔مرحوم چونکہ ابھی بچہ تھا اور غیر موصی تھا اس لئے ہم اسے اپنے اختیار سے مقبرہ موصیان ربوہ میں دفن نہیں کر سکتے تھے۔لیکن چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اور حضرت خلیفۃ مسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے عہد میں ایسی مثالیں موجود تھیں کہ خاص حالات میں بچوں کو اور غیر موصوں کو بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کی اجازت دی گئی تھی اس لئے مرحوم رضوان کو عام قبرستان میں امانتاً تابوت کے اندر دفن کیا گیا۔اور حضرت خلیفتہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں اجازت کے لئے ایکسپریس تار دے دی گئی۔جس کے جواب کا انتظار ہے۔مرحوم کے والدین کو بھی وکالت تحریک جدید کی طرف سے جس کی نگرانی میں یہ بچہ تھا ، اطلاع اور ہمدردی کی تار دی گئی ہے مگر ان کے صدمہ کی گہرائی کو صرف ہما را خدا ہی جان سکتا ہے۔جس نے خود اپنے مبارک ہاتھوں سے فطرتِ انسانی میں جذبات کا خمیر دیا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ ڈوب کر مرنے والا اور کسی دیوار یا مکان کے نیچے آکر مرنے والا اور بچہ کی ولادت کے وقت اچانک فوت ہونے والی عورت اور اسی قسم کے بعض دوسرے فوت ہونے والے لوگ شہید ہوتے ہیں۔اس حدیث میں شہادت کی اصل حقیقت کو تو صرف خدا ہی جانتا ہے ( کیونکہ شہادت کے اصطلاحی معنے خدا کے رستے میں جان دینے کے ہیں) لیکن بعض بزرگوں نے اس جگہ شہید کے معنی مشہود کے کئے ہیں۔اور مراد یہ لیا ہے کہ چونکہ اس قسم کی اچانک موتوں پر دنیا کی نظریں مرنے والے اور اس کے اقرباء کی طرف بے اختیار اور بار بار اٹھتی ہیں۔اس لئے ایسا شخص شہید بمعنی مشہود ہوتا ہے۔یہ مفہوم بھی اپنی جگہ درست ہے لیکن یہ خاکسار خیال کرتا ہے کہ اچانک وفات کا یہ پہلو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ مرنے والے کے نیک اعمال کا سلسلہ اچانک کٹ جاتا ہے۔اور اسے قرب موت کے وقت کی خاص دعاؤں کا بھی موقع نہیں ملتا اور دوسری طرف ایسی موت کا اس کے عزیزوں کو بھی خاص صدمہ ہوتا ہے اور وہ اس کے لئے خاص دعائیں کرتے ہیں۔اس لئے ہمارے رحیم و کریم آقا کی رحمت سے بعید نہیں کہ وہ ایسے حالات میں فوت ہونے والوں اور فوت ہونے والیوں کو شہادت کا مرتبہ عطا کر دیتا ہو وَ رَبُّنَا وَسِيعُ الرَّحْمَةِ ذُو فَضْلٍ عظیم اور جن لوگوں کو شہید کہا گیا ہے ان کا مومن ہونا اور نیک اعمال پر قائم ہونا تو بہر حال لازمی اور ضروری شرط ہے۔وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَاب۔بالآخر دعا ہے کہ رضوان مرحوم کو ( جو ہم سے اس طرح اچانک طور پر رخصت ہو گیا۔اور جو گو یا نماز کی حالت میں فوت ہوا۔کیونکہ وضو نماز کی تیاری کا حصہ ہے) اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحمت سے نوازے۔اس۔