مضامین بشیر (جلد 3) — Page 109
مضامین بشیر جلد سوم 109 مسابقت کا فطری جذبہ اشتراکیت کے نظام میں مسابقت یعنی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی روح کو بھی کچل دیا گیا ہے۔حالانکہ یہ روح قومی اور انفرادی ترقی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔کیونکہ اس کے نتیجہ میں نہ صرف انسانی جد و جہد میں وسعت اور تیزی پیدا ہو جاتی ہے بلکہ انسانی دماغ بھی زیادہ سوچتا اور زیادہ ترقی کرتا ہے۔حق یہ ہے کہ یہ مسابقت کی روح جسے انگریزی میں امبیشن (Ambition) کہتے ہیں ایک عظیم الشان فطری محرک ہے جو انسان کو آگے کی طرف دھکیل کر اس کی رفتار میں غیر معمولی تیزی پیدا کر دیتا ہے۔اور اس کی وجہ سے اس کے دل میں یہ خواہش موجزن ہوتی ہے کہ میں دوسرے لوگوں سے آگے نکل جاؤں۔لیکن اشتراکیت کے نظام میں اس مسابقت کی روح کو اگر یکسر کچلا نہیں گیا تو کم از کم مفلوج ضرور کر دیا گیا ہے۔انفرادی ہمدردی ومواسات اشتراکیت میں انفرادی ہمدردی اور مواسات کے جذبات کو بھی بُری طرح کچلا گیا ہے۔کیونکہ اشتراکیت کے نظام میں رشتہ داروں اور دوستوں اور ہمسایوں اور غریب لوگوں کی انفرادی امداد کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔بلکہ ہر قسم کی امداد کا منبع صرف حکومت بن جاتی ہے۔حالانکہ انسانی اخلاق کی تکمیل اور ترقی کے لئے یہ پہلو بھی نہایت ضروری ہے کہ حسب ضرورت رشتہ داروں اور دوستوں اور ہمسایوں اور غریب لوگوں کی تنگی اور تکلیف کے اوقات میں انفرادی امداد اور مواسات کا راستہ بھی کھلا رہے مگر اشتراکیت نے اس جہت سے بھی انسان کو گو یا صرف ایک مشین بنادیا ہے۔حالانکہ قدرت نے انسان کو محض مشین کے طور پر پیدا نہیں کیا۔بلکہ اس کے اندر محبت اور ہمدردی کے جذبات ودیعت کئے ہیں۔جن کے انفرادی اظہار کے لئے رستہ کھلا رہنا چاہئے۔کاش اشتراکیت کے ارباب حل و عقد اس بات کو سمجھتے کہ انسان کے اندر صرف دماغ ہی پیدا نہیں کیا گیا بلکہ دل بھی پیدا کیا گیا ہے۔پس جب تک انسانی اخلاق میں عقل (Reason) اور جذبات (Sentiment) ہر دو کی حکیمانہ آمیزش کا انتظام نہ ہو انسانیت کا آدھا دھڑ یقینا مفلوج رہے گا۔بیشک انفرادی امداد کے بعض پہلوؤں میں یہ خطرہ لاحق ہوتا ہے کہ دینے والے میں احسان جتانے اور لینے والے میں اپنے آپ کو نیچا محسوس کرنے کی طرف میلان پیدا ہونے لگتا ہے۔مگر اس خطرہ کو اسلام نے بڑی سختی کے ساتھ روکا ہے۔چنانچہ ایک طرف ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص دوسرے کی امداد کر کے احسان جتاتا ہے۔وہ نہ صرف اس امداد کا سارا ثواب ضائع کر لیتا ہے بلکہ بھاری گناہ کا بھی مرتکب ہوتا ہے۔اور دوسری