مضامین بشیر (جلد 3) — Page 110
مضامین بشیر جلد سوم 110 طرف ہدایت دی ہے کہ انفرادی امدادحتی الوسع خفیہ طور پر دوسروں کو پتہ لگنے کے بغیر کی جائے تا کہ امداد دینے والے اور لینے والے کے دلوں میں کسی قسم کے ناخوشگوار احساسات نہ پیدا ہوں۔علاوہ ازیں اسلام یہ بھی حکم دیتا ہے کہ حاجت مند لوگ محنت کر کے خود اپنی روزی کمائیں۔اور حتی الوسع سوال سے پر ہیز کریں اور دوسری طرف وہ ذی ثروت لوگوں کو یہ ہدایت دیتا ہے کہ اپنے ماحول میں آنکھیں کھول کر زندگی گزار و اور غریبوں اور محتاجوں کے سوال کے بغیر خود بخود ان کی امداد کو پہنچو۔اس مرکب اور حکیمانہ تعلیم پر قائم رہتے ہوئے یہ خطرہ کہ انفرادی امداد سے دینے والے میں بڑائی اور لینے والے میں احساس کمتری کے جذبات پیدا ہونے کا امکان ہے عملاً ایک موہوم خطرہ سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا۔بہر حال اسلام نے عقل اور جذبات دونوں میں نہایت درجہ حکیمانہ توازن قائم کیا ہے لیکن اشتراکیت جذبات کے پہلو کو یکسر مٹا کر اس فطری توازن کوکلیۂ برباد کر رہی ہے۔دماغی طاقتوں کی افسوسناک بے قدری پھر طرفہ ماجرا یہ ہے ( اور حقیقتاً یہ ایک عجیب تضاد ہے) کہ جذبات کو مٹانے اور دل کے مقابلہ پر دماغ کو اس کے واجبی مقام سے زیادہ حیثیت دینے کے باوجود اشتراکیت کے نظام میں انسانی دماغ کی کوئی زائد قیمت نہیں لگائی گئی۔بلکہ اصولاً وہی ہاتھ پاؤں والی عمومی پوزیشن تسلیم کی گئی ہے۔کیونکہ اشترا کی ممالک میں اسی اصول کے مطابق افراد کا گزارہ مقرر ہوتا ہے۔اور گواب عملا کسی قدر فرق ملحوظ رکھا جانے لگا ہے۔مگر بنیادی اصول یہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔اب یہ ایک مسلمہ اصول اور تجربہ شدہ حقیقت ہے کہ جس چیز کی اس کے بالا اور ارفع مقام کے باوجود زائد قیمت نہ لگے۔وہ آہستہ آہستہ اپنے مقام سے گر کر نیچے کی چیزوں کی سطح پر آجاتی ہے۔اس طرح اشتراکیت کا نظام در حقیقت نسلِ انسانی کی دماغی طاقتوں کو بھی نقصان پہنچانے کا موجب ہے گو ظاہر ہے کہ اس قسم کی باتوں کا نتیجہ فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتا۔بلکہ کچھ وقت لے کر آئندہ نسلوں میں آہستہ آہستہ ظاہر ہوتا ہے۔مگر ہوتا یقینا ہے کیونکہ قدرت کا قانون ٹل نہیں سکتا۔انسانی حقوق کی قدرتی تقسیم علاوہ ازیں اشتراکیت کے نظام میں ایک بڑا نقص یہ بھی ہے کہ اس نظام میں انسانی حقوق کی فطری تقسیم کوملحوظ نہیں رکھا گیا اور سارے حقوق کو ایک ہی اصول اور ایک ہی پیمانہ سے نا پا گیا ہے۔حالانکہ دراصل انسانی حقوق دو قسم کے ہیں اول وہ حقوق جو حکومت کے ذمہ ہوتے ہیں مثلاً عدل وانصاف کا قیام۔ملکی