مضامین بشیر (جلد 3) — Page 108
مضامین بشیر جلد سوم 108 اس کھلے دروازہ میں داخل ہونے کے بعد جو فرق انفرادی قابلیت اور انفرادی جد وجہد کے نتیجہ میں طبعی طور پر پیدا ہو جاتا ہے۔اسے بھی اسلام تسلیم کرتا ہے۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے۔وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْق (النحل: 72)۔۔۔۔أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ (الروم: 38) یعنی بعض لوگوں کو خدائی قانون کے ماتحت دوسرے لوگوں پر رزق اور دولت میں فوقیت حاصل ہو جاتی ہے ( نیز ) کیا لوگ دیکھتے نہیں کہ خدا بعض لوگوں کے رزق میں فراخی پیدا کر دیتا ہے اور بعض کے لئے تنگی پیدا ہو جاتی ہے۔یہ آیات پوری تشریح کے لئے مفصل بیان چاہتی ہیں۔مگر بہر حال ان دو متقابل تعلیموں پر غور کرنے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ جہاں تک دولت پیدا کرنے کے ذرائع کا سوال ہے وہ سب لوگوں کے لئے یکساں کھلے رکھے گئے ہیں۔مگر دوسری طرف انفرادی قابلیت اور انفرادی جد و جہد کے نتیجہ میں جو فرق افراد اور اقوام کی دولت میں طبعی طور پر پیدا ہو جاتا ہے اسے بھی خدائی قانون اور خدائی مشیت کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور یہی وہ فطری صورت ہے جس سے حقوق کا صحیح توازن قائم رکھا جاسکتا ہے۔انفرادی جد و جہد کا قدرتی محرک اس کے مقابل پر اشتراکیت نے دولت اور دولت پیدا کرنے کے ذرائع کوکلیۂ حکومت کے ہاتھ میں دے کر انفرادی جدو جہد کے سب سے بڑے محرک کو تباہ کر دیا ہے۔بے شک دنیا میں کام کے محرک بہت سے ہیں۔مگر وہ عالمگیر محرک جو تمام محرکات سے وسیع تر اور مضبوط تر ہے جس کے اثر سے کوئی فرد بشر بھی باہر نہیں۔کیونکہ وہ فطرت انسانی کا حصہ ہے۔وہ اس جذبہ سے تعلق رکھتا ہے کہ انسان اپنی محنت کا پھل خود براہِ راست بھی کھائے۔مگر یہ فطری جذ بہ اشتراکیت کے نظام نے بالکل کچل کر رکھ دیا ہے۔یہ درست ہے کہ دوسروں کی امداد کرنے اور دوسروں کی خاطر کام کرنے کا جذبہ بھی اعلیٰ فطرت انسانی کا حصہ ہے۔اور اسلام نے اس جذ بہ پر بھی بہت زور دیا ہے مگر اسلام جو فطرت کا مذہب ہے اور تمام فطری جذبات کے توازن کو قائم رکھتا ہے اس نے اپنی محنت کے پھل کھانے کی عالمگیر خواہش کو بھی جو ہر انسان میں پائی جاتی ہے مٹایا نہیں اور نہایت حکیمانہ طور پر دونوں کے بین بین رستہ نکال کر انفرادیت اور اجتماعیت ہر دو کی زندگی کا سامان مہیا کیا ہے۔