مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 104 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 104

مضامین بشیر جلد سوم 104 میں نہ آئے۔اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے اشتراکیوں نے ہر جگہ اپنے جال بچھا دیئے ہیں۔اور نو جوانوں کے خیالات کو تبدیل کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے اور بکثرت لٹریچر تقسیم کیا جارہا ہے۔اندریں حالات بہی خواہان اسلام کا یہ فرض ہے کہ وہ اس گمراہ کن پروپیگنڈے کے بداثرات سے اپنے بچوں کو محفوظ کرنے کے لئے اس کا مقابلہ کریں۔اس مقصد کے پیش نظر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے یہ مضمون رقم فرمایا ہے۔جو بصورت رسالہ بھی شائع کیا گیا ہے۔یہ مضمون حالات حاضرہ کے پیش نظر نہایت مفید اور ضروری ہے۔احباب کو چاہئے کہ وہ اپنے اپنے حلقہ میں اس کی کثرت سے اشاعت کریں۔اللہ تعالے اسے لوگوں کے لئے بابرکت اور نافع بنائے۔آمین۔( انچارج صیغہ تالیف و تصنیف) اشتراکیت اور اسلام کے اصولوں کا مقابلہ ایک مفصل اور مبسوط مضمون بلکہ ایک مستقل کتاب کی تصنیف کا متقاضی ہے۔لیکن اس وقت نہ تو اس کے لئے خاطر خواہ یکسوئی حاصل ہے اور نہ ہی ضروری سامان میسر ہے۔لہذا فی الحال ذیل کے چند مختصر فقرات میں اس وسیع اور نازک مضمون کے چیدہ چیدہ پہلوؤں کے بیان کرنے پر اکتفا کرتا ہوں۔اگر کسی صاحب کو کوئی بات قابل تشریح نظر آئے یا کوئی اعتراض پیدا ہوتو وہ خط لکھ کر دریافت فرما سکتے ہیں۔یا اگر آئندہ موقع ملا اور خدا نے توفیق دی تو یہ خاکسار یا کوئی اور خادم ملت مفصل مضمون لکھنے کی سعادت حاصل کر لے گا۔وَ بِاللَّهِ التَّوْفِيقِ وَهُوَ الْمُسْتَعَانُ دنیا کے تین نظام اس وقت دنیا میں تین مختلف قسم کے نظاموں کا مقابلہ ہے جن میں سے دو نظام تو کھلے طور پر ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں۔اور تیسر انظام کسی قدر پس پردہ رہ کر گویا ان دو نظاموں کے ٹکراؤ اور اس ٹکراؤ کے نتیجہ کا انتظار کر رہا ہے۔اول الذکر دو نظام اشتراکیت (Communism) اور سرمایہ داری (Capitalism) کے نظام ہیں۔اور تیسر انظام اسلام کا نظام ہے۔جسے قدرت نے ابھی تک اپنی خاص تقدیر کے ماتحت پیچھے رکھا ہوا ہے۔تا کہ اشتراکیت اور سرمایہ داری کے باہم فیصلہ کے بعد اسے دنیا کے آخری ٹکراؤ کے لئے آگے لایا جائے۔یہ تیاری ہمارے معتقدات کی رو سے اس زمانہ کی عظیم الشان مذہبی تحریک یعنی سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ مقدر ہے۔جس کے مقدس بانی کو حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے مثیل اور ہمارے رسول پاک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی ) کے نائب و خادم ہونے کی حیثیت میں تمام مذاہب عالم کے لئے حکم و عدل اور اسلام کے دور جدید کا علم بردار بنا کر بھیجا گیا ہے۔