مضامین بشیر (جلد 3) — Page 103
مضامین بشیر جلد سوم 103 سواس بوالعجبی کو نظر انداز کرتے ہوئے جو خود منکرین کی اپنی پیدا کردہ شقاوت ہوتی ہے۔خدا کی عام رحمت کا تقاضا یہی ہے کہ قریب والے لوگ بھی ( خواہ یہ قرب محض جسمانی ہی ہو ) انبیاء کے زمانہ میں جبکہ الہی رحمت کا وسیع انتشار ہوتا ہے۔جسے گویا موجودہ زمانہ کی اصطلاح کے لحاظ سے روحانی براڈ کاسٹ کہنا چاہئے۔خدائی رحمت کا چھینٹا حاصل کر لیتے ہیں۔اسی طرح مجھے اپنے متعلق بھی بے شمار دفعہ خیال آیا ہے کہ ہمیں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں حضور کی نسل سے پیدا کیا اور اس ذریعہ سے ہم پر لاتعداد نعمتیں نازل فرما ئیں۔بلکہ حق یہ ہے کہ ہمیں اپنی نعمتوں اور برکتوں سے ڈھانک لیا۔اور ہمارے درودیوار پر اپنی غیر معمولی رحمتوں کی بارش برسادی۔اس کے لئے ہم نے کو نسا حق پیدا کیا تھا؟ بظاہر (یعنی دنیا کی نظروں میں ) یہ ایک محض اتفاق تھا۔مگر اس اتفاق نے ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ورنہ شاید دنیا کے لاکھوں کروڑوں انسانوں کی طرح ہم بھی اس وقت کسی دور افتادہ گاؤں میں جہالت کے اندر پڑے ہوئے ہل چلواتے اور زمین کی پیداوار سے اپنا پیٹ پالنے کی فکر میں مبتلا نظر آتے۔مگر یہ محض خدا کا فضل تھا کہ ہمارے معاملہ میں حضرت مسیح موعود کا یہ شعر ہم پر چوں مہربانی سے کنی خدائی نعمت کا مصداق بنا۔پر کسے از زمینی آسمانی کنی وَ ذَالِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَلَا يُسْتَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يَسْتَلُوْنَ - رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَ عَلى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ - ( محررہ 22 جنوری 1953ء) روزنامه الفضل لاہور 30 جنوری 1953 ء) اشتراکیت اور اسلام -- چند اصولی اشارات (1) ( موجودہ زمانہ میں اشتراکیت کی بنیا دلاند ہیت پر رکھی گئی ہے اور اس کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کے وجود کے منکر ہو کر مادہ پرستی میں اس قدر محو ہو جائیں کہ آخرت کا خیال بھی ان کے دماغ (1) اس عنوان پر آپ کا ایک مضمون روز نامہ الفضل 26 دسمبر 1951ء میں بھی شائع ہوا۔جو اس سے ملتا جلتا ہے۔(مرتب)